انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک میں کاروباری دورانیے میں ڈالر کی قدر تنزلی کا شکار رہی تاہم اختتامی لمحات میں ڈالر کی قدر 281روپے 20پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ستمبر میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات 11.3 فیصد کے اضافے سے 3ارب 20کروڑ ڈالر موصول ہونے، آئی ایم ایف کی سیلاب زدگان کو ریلیف دینے کی غرض سے حکومت کو ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دیے جانے اور غیرضروری طلب میں کمی سے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعرات کو ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہی۔
پاکستان پہنچنے والے سعودی اعلیٰ سطح کے تجارتی وفد کی مختلف شعبوں میں تجارت وسرمایہ کاری کے متوقع معاہدوں، ریکوڈک منصوبے، انفلوز کی امیدوں اور اچھے سینٹیمنٹس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی کا شکار رہا۔
ڈالر کی قدر ایک موقع پر 23 پیسے کی کمی سے 280 روپے 97پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن اختتامی لمحات میں درآمدی نوعیت کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے 20پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 282روپے 25پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی قدر کی سطح پر میں ڈالر
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔