سونا مہنگا ہونے سے زیورات بننا بند، جیولرز کا کاروبار ٹھپ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سونے میں سرمایہ کاری ناصرف پاکستان بلکہ دنیا میں پرکشش سرمایہ کاری کا ایک بڑا سیکٹر بن گیا ہے، سرمایہ کار ناصرف اسے اپنے لیے محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے ایک بہتر کاروبار بھی قراردیتے ہیں۔سرمایہ کاروں کی اس سیکٹر میں سرمایہ کاری سے ہی پہلے مرتبہ عالمی منڈی میں سونا 4 ہزار ڈالر فی اونس کی حد بھی عبور کر گیا ہے، امریکا میں شرح سود میں کمی کا عندیہ ،شٹ ڈاون اور امریکن ٹیرف کی جنگ نے سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار عالمی تجارتی کشیدگی، جغرافیا ئی حالات کی وجہ سرمایہ کارواں میں بے چینی ہے جس کہ وجہ سے لوگ سونے کی خریداری کے میدان میں دھڑا دھڑ آرہے ہیں۔سرمایہ کاروں میں لگی اس دوڑ کی وجہ سے ہی سونے کی قیمت مسلسل بلندی کی جانب گامزن ہے، سونے کی دھات نے پلاٹینم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔عالمی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات سے ہی مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔آل پاکستان جیم اینڈ جیولرزایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر کمزور ہوتا ہے تو دنیا میں سونے کی طلب بڑھتی ہے، ٹرمپ کی تجارتی جنگ سے ڈالر کمزور ہو رہا ہے اور سرمایہ کار ڈالر کی بجائے سونے کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔پاکستان میں سونے کی بڑھتی قیمت کے اثرات سے متعلق جیولرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب سونا شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے نہیں خریدا جاتا، سونے کے زیورات بننا بند ہو چکے، جیولرز بے روز گار ہو گئے ہیں اور جیولری کے 50 فیصد کارخانے بند ہو گئے ہیں کیونکہ پاکستان میں بھی صرف سرمایہ کار سونا خرید رہے ہیں۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ چاندی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، سونے کی قیمت میں سب سے زیادہ جیولرز پریشان ہیں کیونکہ ان کا بزنس ٹھپ ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری سرمایہ کار سونے کی
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند