زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
کراچی:
زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سرکاری زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر، مہنگائی پر قابو پانے، بیرونی قرضوں کے حجم میں کمی اور سیلاب نقصانات و بیرونی کھاتوں کے معاملات کا احاطہ ہونے کی صورت میں اگلی قسط کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی امید پر زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعے کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
حکومت سندھ اور سعودی عرب کے درمیان بجلی کے منصوبوں کے فروغ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے سے متعلق توانائی اور سرمایہ کاری کے دو معاہدے طے پانے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔
ایک موقع پر ڈالر کی قدر 17 پیسے کی کمی سے 281 روپے 03 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن معیشت میں طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 03 پیسے کی کمی سے 281روپے 17 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 5 پیسے کی کمی سے 282روپے 20پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
ستمبر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات 11.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کی پیسے کی ڈالر کی کی قدر
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔