کراچی:

زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سرکاری زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر، مہنگائی پر قابو پانے، بیرونی قرضوں کے حجم میں کمی اور سیلاب نقصانات و بیرونی کھاتوں کے معاملات کا احاطہ ہونے کی صورت میں اگلی قسط کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی امید پر زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعے کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔

حکومت سندھ اور سعودی عرب کے درمیان بجلی کے منصوبوں کے فروغ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے سے متعلق توانائی اور سرمایہ کاری کے دو معاہدے طے پانے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔

ایک موقع پر ڈالر کی قدر 17 پیسے کی کمی سے 281 روپے 03 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن معیشت میں طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 03 پیسے کی کمی سے 281روپے 17 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 5 پیسے کی کمی سے 282روپے 20پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

ستمبر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات 11.

3 فیصد کے اضافے سے 3ارب 20کروڑ ڈالر موصول ہونے، زرمبادلہ کے تسلسل سے بڑھتے ذخائر، ریکوڈک سمیت دیگر شعبوں انفلوز کی امیدوں اور اچھے سینٹیمنٹس بھی زرمبادلہ کی مارکیٹوں پر اثرانداز رہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زرمبادلہ کی پیسے کی ڈالر کی کی قدر

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے