شگفتہ اعجاز کی بیٹی اپنی ایک ویڈیو میں کس نامناسب حرکت پر تنقید کی زد میں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
معروف اداکارہ شگفتہ اعجاز کی بیٹی اور مشہور یوٹیوبر حیا طلحہ کو اپنی ایک نئی ویڈیو کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
حیا طلحہ برطانیہ میں مقیم ہیں اور اپنی فیملی و لاگنگ کے باعث مداحوں میں کافی مقبول بھی ہیں۔ ان کے فالورز کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔
تاہم حال ہی میں ایک وی لاگ میں ایسا منظر دکھا دیا جس نے سوشل میڈیا صارفین کو پریشان کردیا اور وہ حیا طلحہ کی اس غفلت پر حیران رہ گئے۔
وائرل ہونے والے اس ویڈیو کلپ میں حیا اپنے بیٹے کیان کی چوسنی کو اپنے منہ میں دباتی ہیں جس پر صارفین نے خبردار کیا کہ یہ بچے کی صحت کے لیے مضر ہوسکتا ہے۔
اکثر صارفین نے کمنٹس کیے کہ ایک بالغ انسان کے منہ میں بے شمار بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ننھے بچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
کسی نے لکھا کہ “یہ کیا لاپرواہی ہے؟ بچے کی صحت کا خیال تو کریں!” ایک نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ ہم تو بچوں کی چیزوں خصوصی طور پر چونی کو تو چھوتے بھی نہیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ کل یہ بچے کی چوسنی اپنے پالتو کتے یا کسی اور جانور کے منہ میں بھی دے سکتی ہیں۔ ان سے کچھ بھی امید کی جا سکتی ہے!”
بعض صارفین نے تو ہایا کو ایک “کیئرلیس مُدَر” تک کہہ دیا تاہم حیا طلحہ نے اس تنقید پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حیا طلحہ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔