شمالی کوریا کی فوجی پریڈ میں نئے جدید ترین جوہری میزائیل ’ہواسونگ 20‘ کی نمائش
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی سربراہی میں جمعہ کی شب ایک شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا. پریڈ میں شمالی کوریا کے جدید ترین بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل ’ہواسونگ-20‘ کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ میزائیل بیک وقت 20 روایتی یا نیوکلیئر وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پریڈ حکمراں جماعت ”ورکرز پارٹی آف کوریا“ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔ جس میں چینی وزیرِاعظم لی کیانگ، روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف کی قیادت میں روسی وفد اور ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ تو لام سمیت کئی غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔
پریڈ میں شمالی کوریا نے اپنے سب سے جدید نیوکلیئر اسٹریٹجک ہتھیار ’ہواسونگ-20‘ کو نمائش کے لیے پیش کیا۔ رائٹرز نے شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میزائیل کو ملک کا ”سب سے طاقتور جوہری دفاعی نظام“ قرار دیا جارہا ہے۔ کے سی این اے کے مطابق ہواسونگ سیریز کے میزائل امریکی سرزمین کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے اپنے خطاب میں فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بیرونِ ملک بھی سوشلسٹ ترقی کے لیے کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی فوج کو ایک ایسی ناقابل شکست قوت بننا چاہیے جو ہر دشمن کو ختم کرسکے۔
پریڈ سے قبل کم جونگ اُن نے سابق روسی صدر دمیتری میدویدیف سے ملاقات کی۔ روسی رہنما نے یوکرین میں لڑنے والے شمالی کورین فوجیوں کی قربانیوں کو دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا۔ ملاقات کے دوران کم جونگ اُن نے روس کے ساتھ تعاون بڑھانے اور مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کرنے کی بھی خواہش پر بھی زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔