مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک طیفی بٹ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی لاش کا پوسٹ مارٹم رحیم یار خان کے اسپتال میں ہو گیا۔
پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد طیفی بٹ کی لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امیر بالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
پولیس کے مطابق لاش کو ورثا لاہور گلبرگ نصیر آباد لے آئے ہیں، یاد رہے کہ طیفی بٹ کو جمعہ اور ہفتہ کی شب مبیبہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔
ذرائع نے کہا تھا کہ طیفی بٹ کو دبئی سے کراچی لایا گیا تھا، کراچی سے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ تھانہ کوٹ سبزل صادق آباد کے علاقے میں طیفی بٹ کو اس کے ساتھی پولیس سے چھڑا کر فرار ہوئے۔
پولیس کے مطابق طیفی بٹ کو ساتھیوں سے چھڑوانے کی کوشش کی گئی، اس دوران طیفی بٹ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طیفی بٹ کو
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔