غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب: وزیراعظم شہبازشریف کل مصر روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت اور غزہ میں جاری سنگین صورتحال کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے کل بروزپیر 13 اکتوبر کو مصر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اور دیگر سینئر وزراء بھی اس دورے میں شامل ہوں گے۔
https://x.
وزیراعظم پاکستان نے 23 ستمبر 2025 کو سات عرب و اسلامی ممالک — مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ترکیہ — کے سربراہان کے ساتھ امریکی صدر سے اعلیٰ سطحی ملاقات میں شرکت کی تھی جس میں غزہ میں امن کے قیام کے امکانات پر غور کیا گیا تھا۔
پاکستان کو امید ہے کہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس مکمل اسرائیلی انخلا، فلسطینی شہریوں کے تحفظ، ان کی جبری بے دخلی کے خاتمے، قیدیوں کی رہائی، جاری سنگین انسانی بحران کے حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے راہ ہموار کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔