مردان میں ڈینگی کا پہلا کیس رپورٹ، مریض انتقال کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں پہلی بار ڈینگی وائرس کا کیس رپورٹ ہوا جبکہ متاثرہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ضلع مرادن میں ڈینگی بخار کے باعث ایک 30 سالہ نوجوان دوران علاج دم توڑ گیا۔
محکمہ صحت مرادن کے مطابق شریف آباد مرادن کے رہائشی عدنان ولد شاہ مراد کو 30 ستمبر 2025 کو تیز بخار، جسم میں درد اور آنکھوں کے پیچھے درد کی شکایت پر مردان میڈیکل کمپلیکس لایا گیا، جہاں لیبارٹری رپورٹ میں ان کا این ایس ون (NS1) ٹیسٹ مثبت اور پلیٹلیٹس کی تعداد 45 ہزار پائی گئی۔
ڈاکٹروں نے فوری طور پر عدنان کو اسپتال میں داخل کرلیا اور انہیں ڈینگی شاک سنڈروم کے خدشے کے پیش نظر آئی سی یو میں نگرانی میں رکھنے کا مشورہ دیا۔
تاہم مریض نے طبی مشورے کے باوجود خود کو بہتر محسوس کرتے ہوئے اسپتال سے چھٹی لے لی اور گھر چلا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق اگلے روز عدنان کی حالت پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے مزید بگڑ گئی، اور اُسے تشویش ناک حالت میں دوبارہ اسپتال لایا گیا۔
طبی عملے نے فوری طور پر پلیٹلیٹس کی منتقلی اور آئی سی یو میں علاج شروع کیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور 4 اکتوبر 2025 کو دم توڑ گیا۔
ضلعی ہیلتھ آفیسر مرادن کے مطابق صوبے میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھروں اور اردگرد کے علاقوں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، پانی جمع نہ ہونے دیں اور بخار یا جسمانی درد کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان