فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے وزیراعظم کی ہدایت پر کرپشن اور بدعنوانیوں میں ملوث اعلی افسران کے خلاف باقاعدہ کاروائی شروع کرتے ہوئے سینئر افسر کو برطرف کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق  وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک سینئر افسر کو مبینہ طور پر ریفنڈ کیسز کی پراسیسنگ کے عوض سپیڈ منی لینے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے پیر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ان لینڈ ریونیو سروس کے گریڈ 20 کے افسر رانا وقار علی جو اس وقت چیف (ایڈمن پول) ایف بی آر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں تعینات تھے (اور لاہور میں تعیناتی کے فرائض انجام دے رہے تھے)۔

اعلامیے کے مطابق مذکورہ افسر کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت انضباطی کارروائی شروع کی گئی، ان پر غفلتِ منصبی بدعنوانی اور غیر اخلاقی رویےکے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

تحقیقات کے لیے ان لینڈ ریونیو سروس کی گریڈ 21 افسر  آمنہ حسن کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا انہوں نے 27 جون 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی جس میں تمام الزامات درست ثابت ہوئے اور پھر مذکورہ افسر کی ملازمت سے برطرفی کی سفارش کی گئی۔

اعلامیے میں مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سات جولائی 2025 کو رانا وقار علی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے 4 اگست 2025 کو تحریری وضاحت جمع کرائی۔

وزیرِ اعظم نے کیس کی مزید سماعت کے لیے سید ندیم حسین رضوی (گریڈ 22)ڈائریکٹر جنرل ان لینڈ ریونیو سروس اکیڈمی لاہور کو کیس کی سماعت کیلئے ہیئرنگ آفیسر مقرر کیا جنہوں نے یکم ستمبر 2025 کو رانا وقار علی کو ذاتی سماعت کا موقع دیا اور تمام ریکارڈ، انکوائری رپورٹ اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزیرِ اعظم  نے رانا وقار علی پر سروس سے برطرفی کی بڑی سزا عائد کر دی۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ رانا وقار علی کو سول سرونٹس (اپیل) رولز 1977 کے تحت فیصلے کے بعد 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان