سرحد پار سے شرپسندی اور پاکستان کا دوٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان فورسز کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حالیہ بلااشتعال فائرنگ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کو کب تک پاکستانی حدود میں شرپسندی کی اجازت دیتا رہے گا؟ گزشتہ ہفتے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ جیسے حساس سرحدی علاقوں میں افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق، اس فائرنگ کا مقصد مسلح دہشت گردگروہوں کو پاکستانی سرحد کے اندر داخل کرانے کی کوشش تھی تاکہ ملک کے اندر دہشت گردی کی نئی لہر پیدا کی جا سکے۔ تاہم پاکستانی فورسز نے نہ صرف افغان چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا بلکہ افغانستان کے اندر موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی ٹھکانوں پر بھی بھرپور کارروائی کی۔ یہ حملے محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ فضائیہ اور توپخانے کے ذریعے کیے گئے ان آپریشنز کے نتیجے میں کئی افغان پوسٹیں تباہ ہوئیں، درجنوں جنگجو مارے گئے اور طالبان اپنی چوکیوں اور لاشوں کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، افغان سرحدی علاقوں میں اب بھی کئی مقامات پر دہشت گردوں کی باقیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی علاقے مکمل طور پر پاک فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ افغانستان کی طرف سے ایسی اشتعال انگیزی کی گئی ہو۔ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) اور دیگر انتہا پسند گروہوں کو افغان سرزمین سے مدد ملتی رہی ہے۔ کابل حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ دوحا معاہدے کی روح کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ مگر بدقسمتی سے، طالبان حکومت نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بلکہ کئی مواقع پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بداعتمادی کو گہرا کر رہا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ آج جب پاکستان اندرونی طور پر استحکام کی راہ پر گامزن ہے، ایسے میں بیرونی سرحدوں سے کی جانے والی اشتعال انگیزی ایک سازش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سازش نہ صرف پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، اقتصادی امداد، تعلیمی مواقع، اور سفارتی تعاون یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کو دشمن نہیں سمجھا۔ مگر افسوس کہ جواب میں اکثر دشمنی اور بے اعتمادی ہی ملی۔ حالیہ فائرنگ اور دہشت گردی کی پشت پناہی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بین الاقوامی اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر کوئی ملک بار بار دوسرے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے تو دفاعی کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے جوابی اقدام میں نہ تو کسی شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور نہ ہی جارحانہ عزائم دکھائے، بلکہ صرف ان ٹھکانوں کو ہدف بنایا جہاں سے دہشت گرد کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔ یہ ایک پیشہ ورانہ اور منظم عسکری ردعمل تھا، جس نے دشمن کو واضح پیغام دے دیا کہ پاکستانی افواج کی صبر آزما پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
یہ حقیقت بھی قابل ِ غور ہے کہ سرحد پار موجود شرپسند گروہ صرف پاکستان کے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ گروہ افغانستان کے امن کے بھی دشمن ہیں۔ ان کی سرگرمیاں نہ صرف کابل حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں بلکہ افغان عوام کے لیے بھی تباہی کا باعث ہیں۔ اس لیے اگر افغان حکمران دانشمندی کا مظاہرہ کریں تو انہیں پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت ِ عملی اپنانی چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی ہمیشہ امن پر مبنی رہی ہے۔ تاہم، تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ جب کبھی کسی نے ہماری سرحدوں کو للکارا، پاک فوج نے ہمیشہ بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔موجودہ صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری بھی اس امر کا نوٹس لے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ خطے کے امن کے لیے کس قدر خطرناک ہیں۔ پاکستان کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق۔ ایسے وقت میں عالمی اداروں کو کابل حکومت پر دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان نے کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں