موسم بدلتے ہی ملک میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
موسم بدلتے ہی ملک میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہوگیا، پشاور کے قریب مردان میں ڈینگی سے 2 افراد انتقال کرگئے۔
محکمہ صحت کے مطابق مردان میں اب تک 270 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
دوسری جانب سندھ کے ضلع تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ میں بھی ڈینگی کے321 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
میرپورخاص ڈویژن میں ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں ڈینگی وارڈ قائم کردیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ دسمبر تک ڈینگی کا خطرہ برقرار رہے گا۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ڈینگی
پڑھیں:
سرد موسم میں بلا ورزش و ڈائٹنگ وزن گھٹانے کا منفرد اور مؤثر طریقہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیوں میں وزن کم کرنے کے لیے لوگ عموماً سخت ورزش، ڈائٹنگ یا مہنگے فٹنس پروگراموں کا سہارا لیتے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق قدرت نے خود ایک ایسا نظام بنا رکھا ہے جو ٹھنڈے موسم میں بغیر کسی اضافی مشقت کے جسمانی وزن گھٹانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق انسانی جسم جب کم درجہ حرارت کا سامنا کرتا ہے تو حرارت برقرار رکھنے کے لیے اپنی توانائی خرچ کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہی عمل کیلوریز کے تیزی سے جلنے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے سردی کے دوران لاحق ہونے والی کپکپی محض ایک جسمانی ردِعمل نہیں، بلکہ وزن میں کمی کا قدرتی اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں چربی دو اقسام کی ہوتی ہے—سفید اور بھوری۔ سفید چربی وہ ذخیرہ ہے جو زائد کیلوریز کے جمع ہونے سے بتدریج بڑھتا جاتا ہے اور نتیجتاً وزن میں اضافہ، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور قلبی امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
اس کے برعکس بھوری چربی جسم کے لیے مفید تصور کی جاتی ہے، کیونکہ یہی چربی توانائی کو حرارت میں تبدیل کرکے جسم کے درجہ حرارت کو مستحکم رکھتی ہے اور میٹابولزم کو فعال بناتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ماہرین کے مشاہدے میں آیا کہ دبلا پتلا جسم رکھنے والے افراد میں بھوری چربی کا تناسب نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ سرد ماحول اس بھوری چربی کی سرگرمی میں اضافہ کرتا ہے، جس سے کیلوریز زیادہ تیزی سے جلتی ہیں۔ 2012 میں ہونے والی ایک اہم تحقیق میں پایا گیا کہ کپکپی کے دوران بھوری چربی کے خلیے غیر معمولی حد تک متحرک ہو جاتے ہیں اور جسم حرارت پیدا کرنے کے لیے اس چربی کو استعمال کرنے لگتا ہے۔
بعدازاں 2014 میں سامنے آنے والی تحقیق نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کپکپی کے وقت Irisin نامی ہارمون فعال ہوتا ہے، جو جسم میں موجود چربی کو گھلانے کے عمل کو تقویت دیتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق سرد موسم میں محض پندرہ منٹ کی کپکپی ایک گھنٹے کی ورزش جتنی کیلوریز جلا سکتی ہے، جو سردیوں میں وزن کم کرنے کا ایک حیرت انگیز اور قدرتی طریقہ پیش کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹھنڈ کے موسم میں کبھی ہلکی کپکپی محسوس ہو تو اسے محض ناخوشگوار کیفیت نہ سمجھیں، یہ دراصل آپ کے جسم میں میٹابولزم کے تیز ہونے اور وزن میں ممکنہ کمی کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔