پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ امریکا سے اس کے تعلقات چین کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے‘ بیجنگ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے ایک بار پھر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوست ملک نے یقین دلایا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات سے ہمارے مفادات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے معمول کی پریس بریفنگ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔ ترجمان چینی وزارتِ خارجہ کے بقول پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات یا ممکنہ معدنیاتی تعاون سے چین کے مفادات، اسٹریٹیجک اعتماد اور دوطرفہ شراکت داری کسی صورت متاثر نہیں ہوگی۔انہوں نے حال ہی میں گردش کرنے والی ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو ایسے معدنیاتی یا ریئر ارتھ نمونے دکھائے جو چین کے حساس منصوبوں یا مفادات سے متعلق ہوسکتے ہیں۔چین کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ رپورٹس پاک چین دوستی کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش ہے‘ ایسی خبریں یا تو غلط معلومات پر مبنی ہیں یا جان بوجھ کر پھیلائی گئی ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امریکا کو دکھائی گئی جن معدنیات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کے کسی منصوبے سے منسلک نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے سدا بہار اسٹریٹیجک شراکت دار ہیں‘ ہماری آہنی دوستی ہر آزمائش میں پوری اتری ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ چین کے حالیہ ریئر ارتھ ایکسپورٹ کنٹرول اقدامات کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں‘ یہ اقدام دراصل چین کے اپنے برآمدی کنٹرول کے نظام کو قوانین اور ضوابط کے مطابق بہتر کرنے کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان چین کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔