پاکستان، امریکا تجارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت، ٹیرف ڈیل معاہدہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف ڈیل طے پا گئی ہے، جسے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے لیے ایک مثبت سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں معاون امریکی وزیر خزانہ رابرٹ کپروتھ سے ملاقات کی، جس میں ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے متعلق پاکستان میں ہونے والی قانون سازی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں تیل، گیس، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
وزیر خزانہ نے امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں اور حکومت نجی شعبے کو معیشت میں قائدانہ کردار دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
بعد ازاں وزیر خزانہ نے یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے عہدیداران سے بھی ملاقات کی، جس میں نجی شعبے کے مسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور حکومت سے حکومت (G2G) اور بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط میں اضافہ کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے اس دوران سٹی بینک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان مالیاتی خدمات میں جدت کی جانب بڑھ رہا ہے، اصلاحات کے ثمرات ملکی معیشت میں استحکام کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔
اسی طرح وزیر خزانہ نے آئی ایف سی کے نائب صدر ریکارڈو پلیٹی سے ملاقات میں ریکوڈک منصوبے کی جلد فنانشل کلوزنگ پر اتفاق کیا، جب کہ آئی ایف سی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کو سراہا گیا۔
علاوہ ازیں، وزیر خزانہ نے اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر ڈاکٹر سلیمان الجاسر سے بھی ملاقات کی، جس میں ایم-6 موٹر وے کی فنانسنگ پر شکریہ ادا کیا گیا اور پولیو کے خاتمے اور آئل فنانسنگ کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان کے لیے نیا کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک تیار کرنے پر بھی باہمی رضامندی ظاہر کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔