عمران خان کی سہیل آفریدی کو وزات اعلیٰ کی مبارکباد، 9 مئی سمیت 4 واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اڈیالہ جیل سے جاری اپنے خصوصی پیغام میں عمران خان نے کہا کہ سہیل آفریدی ان کے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ وہ تحریک انصاف کے نظریے کے مطابق خیبرپختونخوا میں انقلابی اقدامات کریں گے۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی حکومت کی منتقلی کے باوقار عمل پر سراہا۔
عمران خان نے اپنے پیغام میں گزشتہ 2 سال کے دوران پیش آنے والے 4 بڑے واقعات۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے کے سانحات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے ان کا مؤقف ابتدا سے واضح ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لائی جائے اور واقعے کی آزادانہ تفتیش کی جائے، مگر اب تک اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال کی سزائیں سنائی گئیں، حالانکہ اس دن نہتے شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے میں بھی اسی طرز پر ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا، اور اگر ماضی کے واقعات کی تحقیقات ہو جاتیں تو یہ سانحات دوبارہ پیش نہ آتے۔
عمران خان نے خبردار کیا کہ اگر نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑے سانحات ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنان سے اپیل کی کہ نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں احتجاج کرتے ہوئے چاروں واقعات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔
عمران خان نے کہا کہ آج ملک میں سب کچھ ’عاصم لاء‘ کے تحت چل رہا ہے، عدالتیں فوجی عدالتوں کی طرز پر کام کر رہی ہیں، اور 26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد انصاف کی توقع قریباً ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آرمی چیف عاصم منیر، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کرکے فارم 47 کے ذریعے نااہل اور غیرمنتخب حکومت مسلط کی ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس دہشتگردی، امن، یا خارجہ پالیسی کے معاملات میں نہ وژن ہے، نہ اہلیت۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بندوق کے زور پر مسائل کا حل کبھی دیرپا نہیں ہوا، افغانستان کے ساتھ تنازعات کا حل سیاسی ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے، تو وہ افغانستان کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سہیل آفریدی عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی پر جوڈیشل کمیشن تحریک انصاف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔