سہ فریقی سیریز: افغانستان کی طرف سے عدم شرکت کے اعلان کے بعد پی سی بی کا بڑا فیصلہ آگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
افغانستان کی طرف سے ایونٹ سے دستبرداری کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واضح کردیا ہے کہ آئندہ ماہ پاکستان میں شیڈول سہ ملکی کرکٹ سیریز مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوگی۔
افغانستان کی دستبرداری کے بعد ٹورنامنٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے گئے تھے، تاہم پی سی بی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیریز شیڈول کے مطابق جاری رہے گی، جس میں پاکستان اور سری لنکا شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کرکٹ کے لیے اہم خبر، نیوزی لینڈ نے سہ فریقی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے کا اعلان کردیا
سیریز 17 سے 29 نومبر تک منعقد ہونے کا امکان ہے، جبکہ پی سی بی متبادل تیسری ٹیم کے لیے مختلف کرکٹ بورڈز سے رابطے میں ہے تاکہ افغانستان کی جگہ کسی ایشیائی یا ایسوسی ایٹ ٹیم کو شامل کیا جا سکے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے باضابطہ طور پر سہ ملکی ٹی20 ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ شرکت نہیں کرے گا۔
پی سی بی کے ذرائع کے مطابق، ایونٹ کے تسلسل کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ پاکستان کے وائٹ بال شیڈول میں کسی رکاوٹ کے بغیر تسلسل برقرار رہے، خصوصاً اس وقت جب 2026 کے مصروف سیزن میں ٹی20 ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پی سی بی کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پی سی بی کرکٹ افغانستان کی پی سی بی کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔