راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچز کے دوران جڑواں شہروں کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
20 اکتوبر سے 29 اکتوبر 2025 تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچز کے دوران خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق اسلام آباد سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم تک کرکٹ ٹیموں کی آمدورفت کے دوران اسلام آباد ٹریفک پولیس کے 310 افسران و جوان ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تعینات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں سڑکوں اور ٹریفک کی کیا صورتحال ہے؟ ٹریفک پولیس نے بتا دیا
ترجمان کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مارگلہ روڈ سے کھنہ کی جانب سفر کرنے والے فیصل ایونیو، بلیو ایریا، کلب روڈ اور لہتراڑ روڈ استعمال کریں۔ سیکٹرز جی نائن، جی ٹین، جی الیون اور ترنول جانے والے شہری فیصل ایونیو سے ایف ٹین روڈ اختیار کریں۔
راولپنڈی صدر سے اسلام آباد آنے والے پشاور موڑ کے ذریعے سری نگر ہائی وے استعمال کریں، جبکہ آئی جے پی روڈ سے آنے والے سبزی منڈی روڈ سے سفر کریں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران سروس روڈز پر شہریوں کی رہنمائی کے لیے موجود رہیں گے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ ٹیموں کی موومنٹ کے دوران خصوصاً صبح کے دفتری اوقات، اسکول اوقات اور شام کے رش کے اوقات میں ایکسپریس ہائی وے اور سری نگر ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: راولپنڈی میں کونسی سڑکیں بند اور کونسی کھلی ہیں؟ ٹریفک پولیس نے تفصیلات بتا دیں
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سفر کے لیے اضافی وقت نکالیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔ اسلام آباد پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹریفک کی تازہ صورتحال سے آگاہی کے لیے شہری اسلام آباد پولیس کے سوشل میڈیا پیجز اور ایف ایم ریڈیو 92.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس ٹریفک شاہراہیں کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ٹریفک شاہراہیں کرکٹ ٹریفک پولیس اسلام آباد ٹریفک کی کے دوران پولیس کے کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔