پاکستان نے پہلی بار ورلڈ شیفس ایشیا فورم 2026 کی میزبانی جیت لی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان آئندہ سال پہلی بار ورلڈ شیفس ایشیا فورم کی میزبانی کرے گا ۔اس تقریب کا انعقاد لاہور اور اسلام آباد میں اکتوبر 2026 میں کیا جائے گا۔اس حوالے سے صدر شیفس ایسوسی ایشن آف پاکستان احمد شفیق نے نجی ٹی کو بتایا کہ پاکستان کے حق میں یہ فیصلہ بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال ہونے والے ایونٹ کا فیصلہ چین کے شہر شوجو میں ہونے والے ورلڈ شیفس فورم 2025ء میں ہوا جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان میزبانی کے لیے مقابلہ تھا جو پاکستان نے 21 میں سے 13 ووٹ سے جیت لیا۔احمد شفیق کا کہنا تھا کہ اگلے سال ایونٹ میں 21 ایشیائی ممالک اور بہت سے نامور شیفس اور ایسوسی ایشن کے صدور پاکستان آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس یونٹ سے پاکستانی شیفس کو دوسرے ممالک میں ملازمتیں بھی مل سکیں گی۔صدر شیفس ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ورلڈ شیفس ایشیا پریذیڈنٹس فورم کے رکن ممالک میں چین، پاکستان، بھارت، سری لنکا، جمہوریہ کوریا، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، جاپان، مکاؤ، ملائیشیا، کمبوڈیا، مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال، سنگاپور، فلپائن، جنوبی کوریا، سری لنکا، تائیوان، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ورلڈ شیفس
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔