Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:22:09 GMT

سلیم کوثر کے اعزاز میں ادبی دنیا کی شاندار شام

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

سلیم کوثر کے اعزاز میں ادبی دنیا کی شاندار شام

کراچی میں اردو ادب کی فضا اُس وقت خوشبو سے مہک اٹھی جب بزمِ رابطہ کے زیر اہتمام اردو کے معتبر اور محبوب شاعر سلیم کوثر کے اعزاز میں سال کی سب سے بڑی اور یادگار ادبی تقریب ’’اعترافِ کمالِ سلیم کوثر‘‘کے عنوان سے منعقد کی گئی۔
تقریب میں اردو کے بڑے ناموں نے شرکت کی جن میں زہرہ نگاہ، ظفر اقبال، انور مسعود، سحر انصاری، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، صابر ظفر اور خود سلیم کوثر شامل تھے۔ اس موقع پر سرحد پار سے بھی اردو کے ممتاز شعرا — منظر بھوپالی، طاہر فراز، فراست رضوی اور جاوید صبا — کراچی پہنچے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے سلیم کوثر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پندرہ برس بعد سلیم کوثر کو اپنے درمیان پا کر حاضرین جذباتی ہو گئے۔ جب وہ اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شاعر کا استقبال کیا، گویا ہر تالی میں محبت، عقیدت اور شکریہ چھپا تھا۔
تقریب میںاعترافِ کمال ایوارڈ پیش کرتے ہوئے ان کے فن، لب و لہجے اور زبان کی لطافت کو سراہا گیا۔ جذبات اپنے عروج پر اُس وقت پہنچے جب سلیم کوثر نے اپنا شہرۂ آفاق شعر سنایا
> سرِ آئینہ مرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے
یہ شعر ختم ہوا، اور ہر آنکھ نم ہو چکی تھی — جیسے ہر دل نے اس مصرعے میں اپنا کوئی عکس پا لیا ہو۔
بعد ازاں ایک بھرپور مشاعرہ منعقد ہوا، جہاں ملک و بیرونِ ملک سے آئے شعرا نے اپنا کلام سنایا اور سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ محفل کا رنگ، جذبات کی گہرائی، اور شعری لطف دیر تک شرکاء کے دلوں میں گونجتا رہا۔
تقریب کی میزبانی معروف شاعروجیہ ثانی اور صائمہ علوی نے خوبصورتی سے انجام دی۔ یہ شام اردو شاعری اور سلیم کوثر کے چاہنے والوں کے لیے ایک ایسا لمحہ ثابت ہوئی جو وقت کے صفحوں پر ایک خوبصورت یاد بن کر ثبت ہو گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سلیم کوثر

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل