دبئی میں ڈلیوری بائیکس کیلئے نئی ٹریفک پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2025ء) دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) اور دبئی پولیس ہیڈکوارٹرز نے ڈلیوری بائیکس کے لیے تیز رفتار سڑکوں پر نئی ٹریفک پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو یکم نومبر 2025ء سے نافذ ہوں گی۔ سرکاری اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق نئے ضوابط کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ لین والی سڑکوں پر ڈلیوری رائیڈرز کو بائیں جانب کی دو لین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تین یا چار لین والی سڑکوں پر وہ سب سے بائیں لین استعمال نہیں کرسکیں گے، تاہم دو یا کم لین والی سڑکوں پر ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، آر ٹی اے اور دبئی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جن کمپنیوں کے رائیڈرز مقررہ لینز کی پابندی کریں گے، انہیں "ڈیلیوری سیکٹر ایکسی لینس ایوارڈ" کے تحت اعزاز دیا جائے گا، یہ اقدام بہتر خدمات، ٹریفک سلامتی اور قانون کی پاسداری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنائے گا۔
(جاری ہے)
آر ٹی اے کے ٹریفک اینڈ روڈز ایجنسی کے سی ای او حسین البنّا نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی و نجی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت کے بعد کیا گیا ہے تاکہ ڈلیوری رائیڈرز کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے، ڈلیوری کا شعبہ دبئی کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور خدمات کے معیار کے ساتھ ساتھ صحت و سلامتی کے عالمی معیار کو فروغ دیتا ہے، یہ اقدام دبئی اکنامک ایجنڈا ’ڈی33‘ کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا مقصد آئندہ برسوں میں دبئی کی معیشت کو دوگنا کرنا اور قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ڈلیوری سیکٹر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسی لیے آر ٹی اے نے تکنیکی مطالعوں اور عالمی معیار کے مطابق یہ ضابطے تیار کیے ہیں، دبئی پولیس اور محکمہ معیشت و سیاحت کے ساتھ مل کر نگرانی کی جائے گی تاکہ رائیڈرز کی جانب سے بائیں لین کے استعمال پر پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، سڑکوں کے سائن بورڈز پر واضح نشانات لگائے جائیں گے تاکہ بائیکس کے لیے مخصوص اور ممنوعہ لینز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس حوالے سے آر ٹی اے کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی کے لیے مختلف میڈیا اور اشتہاری پلیٹ فارمز کے ذریعے مہم چلائی جائے گی، جس میں دبئی میں کام کرنے والی ڈلیوری کمپنیوں کو بھی شامل کیا جائے گا، دبئی پولیس کے اسسٹنٹ کمانڈر ان چیف برائے آپریشنز میجر جنرل سیف محیر المزروعی نے کہا کہ یہ فیصلہ آر ٹی اے اور پولیس کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے جو دبئی ٹریفک سیفٹی اسٹریٹیجی کے مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ پانچ سالہ روڈ سیفٹی پلان کا حصہ ہے جس میں چار بنیادی ستون ہیں جن میں نگرانی اور نفاذ، سڑکوں اور گاڑیوں کی انجینئرنگ، ٹریفک آگاہی اور نظام و انتظام شامل ہیں، ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے رائیڈرز پر پہلی بار 500 درہم، دوسری بار 700 درہم جرمانہ اور تیسری خلاف ورزی پر پرمٹ معطل کر دیا جائے گا، اسی طرح 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی صورت میں پہلی بار 200، دوسری بار 300 اور تیسری بار 400 درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پولیس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 2024ء میں ڈلیوری بائیکس سے متعلق 854 حادثات رپورٹ ہوئے، 2025ء میں ان کی تعداد بڑھ کر 962 ہوگئی، گزشتہ سال ڈلیوری رائیڈرز کے خلاف 70 ہزار سے زائد ٹریفک خلاف ورزیاں درج کی گئیں جو رواں سال کے پہلے نو مہینوں میں بڑھ کر 78 ہزار 386 ہو چکی ہیں، المزروعی نے کہا کہ موٹرسائیکلیں سب سے زیادہ خطرناک سواریوں میں شمار ہوتی ہیں کیونکہ ان میں حفاظتی ڈھانچہ نہیں ہوتا، تیز رفتاری والی لینز پر بائیکس کی پابندی حادثات میں کمی اور ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے میں مدد دے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دبئی پولیس سڑکوں پر آر ٹی اے کے ساتھ جائے گا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔