ٹماٹر کی فی کلو قیمت 550 روپے تک جاپہنچی،سوشل میڈیا پر صارفین کا شدید رد عمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-05-6
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمت کم اور ٹماٹر کی زیادہ ہوگئی ہے ،زندہ مرغی 320 روپے ،مرغی کا گوشت 500 روپے اور ٹماٹر 550 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، عوام حیران ہیں کہ مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی، ٹماٹر کی قیمت میں ہوش روبا اضافے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیاصارفین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔سوشل میڈیا صارف اکرم بلوچ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ زندہ مرغی 320 روپے کلو اور ٹماٹر 550 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں، ہم عوام حیران ہیں کہ مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی دالیں۔قاضی حسن جدون نے لکھا کہ عوام مہنگائی اور بے بسی کی دہری اذیت میں مبتلا ہیں، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔نصیب اللہ خان نے لکھا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتیں 500روپے کلو سے بڑھ گئی ہیں آٹے اور گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ کمشنر کراچی اور پرائس کنٹرول لسٹ جاری کرنے والے اور پرائس مانیٹرنگ کمیٹی جو روزمرہ ضروری اشیاخوردہ نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے مگر یہ لوگ اپنے دفتر کے ٹھنڈے کمروں میں خوب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ عوام کے مسائل سے اتنی بے خبر حکومت شاید ہی کبھی ہم نے دیکھی ہے جبکہ دوسری جانب ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے کئی صارفین نے ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ ٹماٹر نہ خریدیں۔ کچھ چیزیں دہی سے بہت اچھی بن جاتی ہیں، اسی طرح ٹماٹو پیسٹ 530 روپے کا 800 گرام ملتا ہے، سالن میں ایک چمچ ڈال لیجیے مہینہ بھر چلے گا، تب تک ٹماٹر سستے ہو جائیں گے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی اور مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔آٹا 150روپے، ٹماٹر 550 روپے، چینی 220 روپے، اور پکوان آئل 670 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، مگر پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔کراچی کے عام بازاروں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 سے 550 روپے تک پہنچ چکی ہے جس سے ٹماٹر عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی زندگی دشوار بنا رکھی ہے، اور اب ٹماٹر جیسے بنیادی استعمال کی سبزی کا اس قدر مہنگا ہو جانا عام آدمی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا میں ٹماٹر ٹماٹر کی کی قیمت رہے ہیں فی کلو
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ