امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی لمحے کے دوران آسٹریلیا کے سفیر اور سابق وزیراعظم کیون رڈ سے کہا:

’مجھے تم پسند نہیں ہو، اور شاید کبھی نہیں ہو گے!‘

یہ جملہ بظاہر سخت تھا، مگر اگلے ہی لمحے کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا جیسے سفارتی دباؤ کا بوجھ اچانک ہلکا ہو گیا ہو۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک آسٹریلوی صحافی نے صدر ٹرمپ سے رڈ کے ماضی میں دیے گئے تنقیدی بیانات کے بارے میں سوال کیا۔

ٹرمپ کو ’گاؤں کا احمق‘ کہنے والے رڈ ٹرمپ کے سامنے

2021 میں کیون رڈ نے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کو ’ گاؤں کا احمق‘ اور  ’غیر سنجیدہ ذہنی قوت والا‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں، انہیں وزیراعظم انتھونی البنیزی نے امریکا میں آسٹریلیا کا سفیر مقرر کیا۔

یہ بھی پڑھیے ’تمہاری ماں نے‘: ٹرمپ پیوٹن ملاقات سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس ترجمان کا تضحیک آمیز جواب

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اس معاملے پر برہم تھے، تاہم ملاقات کے دوران انہوں نے نہ صرف خوش مزاجی دکھائی بلکہ رڈ سے بظاہر درگزر کا معاملہ کیا۔

ذرائع کے مطابق، میڈیا کے باہر جانے کے بعد رڈ نے صدر سے معافی مانگی، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ  سب کچھ معاف ہے۔

آسٹریلوی وفد نے سکون کا سانس لیا

صدر ٹرمپ کی ملاقات آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البنیزی کے ساتھ غیر متوقع طور پر گرمجوشی اور مثبت ماحول میں ہوئی۔
ٹرمپ نے نہ صرف AUKUS دفاعی اتحاد کی بھرپور حمایت کی بلکہ نایاب معدنیات کے شعبے میں 8.

5 ارب ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
انہوں نے البنیزی کو  ’عظیم رہنما‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور آسٹریلیا کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

ٹرمپ کا مزاح، تنقید اور سیاسی توازن

پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ایک آسٹریلوی صحافی کے  ’شاندار ہیئر کٹ‘ کی تعریف کی، دوسرے کو  ناستیا آدمی کہہ کر چھیڑا، اور اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کو سیاسی، طنزیہ اور دل لگی سے بھر دیا۔

یہ بھی پڑھیے ’ہونٹ نہیں، مشین گن ہیں‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس سیکرٹری سے متعلق عجیب بیان

انہوں نے جو بائیڈن کو  نااہل کہا، حماس کو  خاتمے کی دھمکی دی، اور ایرانی تنصیبات پر امریکی حملے کو بے عیب کارروائی قرار دیا۔

ڈرامے کے بغیر کامیاب ملاقات

’اگر یہ جملہ مجھے تم پسند نہیں ہو‘اس ملاقات کا سب سے ناخوشگوار لمحہ تھا، تو آسٹریلوی وفد کے لیے یہ کسی سفارتی کامیابی سے کم نہیں۔
ٹرمپ کا رویہ دوستانہ، مزاحیہ اور غیر جارحانہ رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور کینبرا کے تعلقات میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلوی سفیر کیون رڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہو ٹرمپ کا

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل