ٹرمپ مخالف مظاہروں میں شدت
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: "میں 1960ء کی دہائی سے احتجاج کر رہا ہوں، لیکن اس بار یہ احتجاج مختلف محسوس ہو رہا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں ہم حقوق کو بڑھانا چاہتے تھے، لیکن اب ہماری جمہوریت، ہمارے بنیادی اصول، ہماری پریس، ہماری عدلیہ سب خطرے میں ہے۔" مظاہرین میں شریک اور شخص نے CNN کو بتایا: "ہم احتجاج کر رہے ہیں، کیونکہ ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں اور ہم اسے واپس لینا چاہتے ہیں،" انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مل کر جمہوریت کو بچا سکتے ہیں۔" ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے واشنگٹن ڈی سی کی ریلی میں ٹرمپ کو "امریکی تاریخ کا سب سے کرپٹ صدر" قرار دیا۔ تحریر: رضا دھقانی
امریکہ کے درجنوں شہروں میں ہفتے کی شام اور آج صبح (ہفتہ کے امریکی وقت کے مطابق) "نو کنگز" کے عنوان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان عوامی اور مربوط مظاہروں کی دوسری لہر نے ٹرمپ کے حامیوں کو ششدر کردیا ہے۔ Axios ویب سائٹ نے امریکہ بھر میں ان مظاہروں میں حصہ لینے والوں کی تعداد 7 ملین بتائی ہے۔ یہ مظاہرے، جو واشنگٹن، ڈی سی سے لے کر نیویارک، لاس اینجلس اور چھوٹے شہروں تک پھیلے ہوئے تھے، منتظمین کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے "بڑھتے ہوئے آمریت" اور "آمرانہ اقدامات" کے خلاف سخت مخالفت کا اظہار کرنے کے لیے منعقد کیے گئے۔
مظاہروں کا بے مثال پیمانہ
"نو کنگز" اتحاد، جو 200 سے زیادہ شہری حقوق کے گروپوں اور مزدور یونینوں جیسے امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) اور امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز پر مشتمل ہے، انہوں نے اعلان کیا ہے کہ تمام 50 امریکی ریاستوں میں 2,500 سے 2,700 ریلیوں اور مارچوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ منتظمین کا اندازہ ہے کہ اس دن لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، جو امریکی تاریخ میں احتجاج کے سب سے بڑے دنوں میں سے ایک سمجھا جائیگا۔
احتجاج کے مطالبات اور موضوعات
مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور اقدامات کی شدید مذمت کی۔
احتجاج کے اہم موضوعات
1۔ "اقتدار پر قبضے" اور جمہوریت کیلئے خطرہ کیخلاف احتجاج: مرکزی نعرہ "امریکہ کو بادشاہ نہیں چاہیئے۔" اس سلوگن نے براہ راست ٹرمپ کی آمریت اور عدلیہ کو نظر انداز کرنے، میڈیا پر حملہ کرنے اور مقامی حکومتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کو نشانہ بنایا۔
2۔ حکومتی شٹ ڈاؤن بحران: وفاقی حکومت کا جاری شٹ ڈاؤن، جس نے بہت سے ملازمین کو کام سے باہر کر دیا ہے اور عوامی خدمات میں خلل ڈالا ہے، عدم اطمینان کی ایک بڑی وجہ تھی، جو عوامی احتجاج کا بڑا محرک ہے۔
3۔ امیگریشن پالیسیاں اور شہروں کی عسکریت پسندی: امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں میں توسیع اور ڈیموکریٹک آبادی والے شہروں (جیسے شکاگو اور پورٹ لینڈ) میں وفاقی فوجیوں اور نیشنل گارڈ کو تعینات کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے نے بھی مظاہرین کو ناراض کیا ہے۔
بڑے شہر، مظاہروں کا مرکز
نیویارک سٹی میں ٹائمز اسکوائر ہزاروں لوگوں کے احتجاج کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مظاہرین نے "بادشاہت کو نہیں" اور "ارب پتیوں سے نجات دلاو" جیسے نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔ معروف نعروں میں "جمہوریت کی حمایت"، "کوئی نفرت نہیں، کوئی خوف نہیں، تارکین وطن خوش آمدید!" وغیرہ شامل تھے۔ واشنگٹن ڈی سی میں، ریلیوں کا مرکز کیپٹل کے سامنے نیشنل مال پر تھا۔ بہت سے مظاہرین نے پیلے رنگ کے لباس پہن رکھے تھے، جسے معترض منتظمین نے "عوامی طاقت اور اتحاد" کی علامت کے طور پر تجویز کیا تھا۔ شکاگو میں، گرانٹ پارک میں، میئر برینڈن جانسن نے فوجی دستوں کی تعیناتی کا تذکرہ کرتے ہوئے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "انہوں نے خانہ جنگی کو دہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ہم یہاں ثابت قدم رہنے اور عہد کرنے کے لیے ہیں کہ ہم نہیں جھکیں گے، ہم نہیں جھکیں گے، ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہمیں اپنے شہر میں فوجی نہیں چاہیئے۔" لاس اینجلس کے علاوہ سان ڈیاگو اور سان فرانسسکو میں بھی احتجاج کیا گیا۔ کیلیفورنیا میں، مظاہروں نے مقامی مسائل پر بھی توجہ مرکوز کی، جیسے کہ انتخابی اضلاع کو تبدیل کرنے کا منصوبہ۔
احتجاج میں شریک ایک شہری کے تاثرات
"میں 1960ء کی دہائی سے احتجاج کر رہا ہوں، لیکن اس بار یہ احتجاج مختلف محسوس ہو رہا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں ہم حقوق کو بڑھانا چاہتے تھے، لیکن اب ہماری جمہوریت، ہمارے بنیادی اصول، ہماری پریس، ہماری عدلیہ سب خطرے میں ہے۔" مظاہرین میں شریک اور شخص نے CNN کو بتایا: "ہم احتجاج کر رہے ہیں، کیونکہ ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں اور ہم اسے واپس لینا چاہتے ہیں،" انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مل کر جمہوریت کو بچا سکتے ہیں۔" ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے واشنگٹن ڈی سی کی ریلی میں ٹرمپ کو "امریکی تاریخ کا سب سے کرپٹ صدر" قرار دیا۔ "یہ امریکی تاریخ میں احتجاج کا سب سے بڑا دن ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں،" لیزا گلبرٹ نے جو تنظیم سازی کرنے والے گروپوں میں سے ایک رہنماء ہیں، انہوں نے کہا ہے "لوگ اس سے کہیں زیادہ باخبر ہیں، جب وہ آخری بار احتجاج کے لیے نکلے تھے۔"
وائٹ ہاؤس اور ریپبلکنز کا ردعمل
ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکنز نے ریلیوں کی شدید مذمت کی۔ ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن جو ایک ریپبلکن ہیں، انہوں نے احتجاج کو "امریکہ کے لیے نفرت انگیز ریلی" قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان مظاہروں میں "دو بائیں بازو،" "سوشلسٹ" اور "مارکسسٹ" موجود تھے۔ اس کے برعکس، سینیٹر برنی سینڈرز، جو ایک آزاد اور جمہوری حامی ہیں، انہوں نے فیس بک پر لکھا: "یہ امریکہ سے محبت کی ریلی ہے۔ اس ملک کے لاکھوں لوگوں کی ریلی جو ہمارے آئین پر یقین رکھتے ہیں، جو امریکی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور جو آپ کو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ملک کے حکمرانوں کو مطلق بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔" دریں اثناء، ٹرمپ، جو ہفتے کے آخر میں فلوریڈا میں اپنی ذاتی جائیداد میں وقت گزار رہے ہیں، انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے "بادشاہ" کے لقب کو مسترد کرتے ہوئے کہا: " وہ مجھے بادشاہ کہتے ہیں، میں بادشاہ نہیں ہوں۔" یہ مظاہرہ، ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد "No to the Monarchy" اتحاد کی طرف سے ہوا، جو ٹرمپ کے خلاف دوسرا بڑا احتجاج ہے، یہ مخالفین کے وسیع تر متحرک ہونے کی نمائندگی کرتا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ گہرے سیاسی تناؤ اور حکومتی شٹ ڈاؤن کے درمیان امریکی جمہوریت کا مستقبل شدید خطرے میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا امریکی تاریخ 1960ء کی دہائی احتجاج کے انہوں نے کی ریلی ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔