نیپرا کے فیصلے کے بعد کراچی میں بجلی کے نرخ میں کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی، کے الیکٹرک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ترجمان نے کہا کہ نیپرا کے نئے فیصلے سے ہماری مالی مشکلات یقیناً بڑھیں گی، فیصلے سے کے الیکٹرک کو شدید مالی مشکلات اور مرمتی کام متاثر ہوگا، مالی مشکلات میں اضافے سے موسم سرما میں بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور نیپرا کے نئے فیصلے سے جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی وہاں بھی لوڈشیڈنگ شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کے الیکٹرک نے صارفین کو واضح کیا ہے کہ نیپرا کے فیصلے کے بعد شہریوں کے بجلی کے نرخ میں کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے پہلے اضافی ٹیرف دینے اور پھر واپس لینے کے بعد کم ٹیرف نے کے الیکٹرک کے صارفین میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ذرائع کے الیکٹرک نے بتایا کہ نیپرا کے ملٹی ائیر ٹیرف میں کے الیکٹرک کے فی یونٹ 7 روپے 60 پیسے کی کمی کے الیکٹرک پر بجلی بن کر گری ہے، نیپرا موجودہ فیصلے سے ادارے کو 100 روپے کا سالانہ نقصان ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپرا کے نئے فیصلے سے ہماری مالی مشکلات یقیناً بڑھیں گی، فیصلے سے کے الیکٹرک کو شدید مالی مشکلات اور مرمتی کام متاثر ہوگا، مالی مشکلات میں اضافے سے موسم سرما میں بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور نیپرا کے نئے فیصلے سے جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی وہاں بھی لوڈشیڈنگ شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کیش فلو میں کمی سے مقامی مینٹینس کا کام متاثر ہونے کے ساتھ ضروی آلات کی امپورٹ بھی تقریبا بند ہوجائے گی کیونکہ کے الیکٹرک نیٹ میٹرنگ سمیت مینٹیس کے لئے پرزہ جات باہر سے امپورٹ کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کیش فلو میں کمی کے باعث کے الیکٹرک کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات یقینی ہوں گی۔ نیپرا کے نئے فیصلے میں بلوں کی ریکوری کو تقریبا 100 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت کررہے ہیں، موجودہ فیصلے سے ہماری مالی مشکلات یقیننا بڑھیں گی، ہماری کوشش ہوگی کہ مالی مشکلات کے باوجود شہر میں بجلی کی سپلائی کو بہتر طریقے سے جاری رکھیں۔ نیپرا کے فیصلے کا عوام پر براہ راست اثر نہیں پڑے گا تاہم شہریوں کے بجلی کے نرخ میں کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیپرا کے نئے فیصلے سے ترجمان نے کہا کہ مالی مشکلات کہ نیپرا کے کے الیکٹرک کی کمی
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔