اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دیکھیں، سہیل آفریدی کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
صوبے میں کسی اور راج کی ضرورت نہیں،ہم نہیں ڈرتے، وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ پیسے ہیں
بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی نجی ٹی وی سے گفتگو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی اور راج کی ضرورت نہیں، اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دیکھیں، ہم نہیں ڈرتے،بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے نجی ٹی وی سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے۔اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ پیسے ہیں، ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے آئندہ بھی مزید اقدامات کریں گے، ضم اضلاع میں خصوصی افراد کیلئے بھی بسوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے، خصوصی افراد کیلئے ہم بسیس اور ویل چیئر دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر شوکت خانم ہسپتال بنا رہے تھے تو پوری پاکستانی قوم نے اپنا حصہ ڈالا، شوکت خانم ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ پیسے ہیں، ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، ہم اپنے وسائل سے غریب لوگوں کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 18 سال تک کے یتیم بچوں کو پیسے دیں گے، احساس امید کارڈ کے تحت یتیم بچوں کو ماہانہ 5 ہزار روپے دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کیا جا رہا ہے سہیل ا فریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔