کسی آپریشن یا ڈرون حملے کے متحمل نہیں، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
باڑہ میں منعقد ہونے والے امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ایک کے بعد آپریشن اور ڈرون حملوں نے قبائلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا، مگر ریاست کی جانب سے آئی ڈی پیز سے کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے قبائلی امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کسی آپریشن یا ڈرون حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ باڑہ میں منعقد ہونے والے امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ایک کے بعد آپریشن اور ڈرون حملوں نے قبائلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا، مگر ریاست کی جانب سے آئی ڈی پیز سے کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ کہا کہ 2018ء میں کہا گیا تھا کہ قبائل میں امن قائم ہو گیا ہے، مگر آج پھر سے آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہم اس بار قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں، اور کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت امن کی بحالی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم اس بار کسی قسم کا کولیٹرل ڈیمیج برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ جلد بلائے، صوبے کے لیے ساڑھے تین ارب روپے فراہم کرے، اور قبائلی علاقوں کے فیصلوں میں صوبائی حکومت و عوام کو اعتماد میں لے۔ وزیراعلیٰ نے پنجابی میں کہا کہ "ساڈا حق ایتھے رکھ، ساڈا حق ایتھے رکھ" اور واضح کیا کہ ہمیں دوسروں کے استعمال شدہ وسائل نہیں بلکہ ہمارا اصل حق چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔