سپارکو کی جانب سے "جیو-اے آئی برائے جنگلاتی معلومات/ ریموٹ سینسنگ اور جیو انفارمیشن سسٹمز کی جدید ایپلی کیشنز برائے جنگلات" کے موضوع پر بین الاقوامی تربیتی کورس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن، انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے جیو اے آئی فاریسٹ انفارمیشن ایڈوانس آر ایس اینڈ جی آئی ایس ایپلیکیشنز اِن فاریسٹری کے عنوان سے ایک بین الاقوامی تربیتی کورس کا انعقاد کرنے جارہا ہے۔

کورس 27 تا 31 اکتوبر 2025 تک سپارکو کمپلیکس، کراچی میں منعقد ہوگا۔ یہ کورس ازنیٹ کے رکن ممالک کے ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ تاکہ وہ مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجی کو جنگلات کی مؤثر نگرانی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار زمین کے انتظام میں استعمال کرسکیں۔

ازنیٹ کے مختلف رکن ممالک بشمول عراق، اردن، لیبیا، تیونس، ایران اور پاکستان سے شرکاء اس پروگرام میں حصہ لیں گے۔ یہ تربیت لیکچرز، عملی مظاہروں اور مشقوں کے ذریعے دی جائے گی۔

شرکا جیو-اے آئی فریم ورک کے تحت ماحولیاتی ڈیٹا کے تجزیے اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

ترجمان سپارکو کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ازنیٹ کی اُن مسلسل کاوشوں میں ایک اور سنگ میل ہے جو وہ خلا پر مبنی ایپلی کیشنز کے ذریعے ماحولیاتی استحکام اور موسمیاتی لچک میں بین الاقوامی تعاون اور علم کے تبادلے کے فروغ کے لیے کر رہا ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جیو اے

پڑھیں:

وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔

وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا