بھارت کے بڑی جنگی مشق ’ترشول‘ کے اعلان پر پاکستان کا انتہائی سخت ردعمل، فضائی حدود میں عبوری پابندیوں کا نفاذ
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقے سرکریک کے قریب ایک بڑی مشترکہ جنگی مشق ‘ترشول‘ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جو 30 اکتوبر سے 10 نومبر تک جاری رہے گی۔
مشق کے اعلان کے فوراً بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے بعض حصوں پر 28 اور 29 اکتوبر کے لیے عبوری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مشق کا مقصد اور دائرہ کاربھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق ’ترشول‘ مشق میں بری، بحری اور فضائی، تینوں مسلح افواج، حصہ لیں گی۔ ان مشقوں کا مقصد مشترکہ آپریشنز کی تیاری، خود انحصاری اور تکنیکی ہم آہنگی کو جانچنا ہے۔
India's announcement of war exercises by the three forces in SirCreek and Jaisalmer for ten days shows that India wants to play a trick.
On the other hand, Pak has also announced tri-serv exercises in the same area.
The situation can deteriorate at any time due to Ind stupidity. pic.twitter.com/fVCuHqjoHF
— Hash (@Hash2di) October 25, 2025
یہ مشق سرکریک، سندھ اور کراچی کے محور کے قریب تقریباً 96 کلومیٹر طویل سمندری و زمینی پٹی میں ہو رہی ہے جو بحیرہ عرب میں داخلے کے اہم راستوں کو متاثر کرتی ہے۔
سیٹلائٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے 28 ہزار فٹ کی بلندی تک اپنی فضائی حدود مختص کی ہے، جو کسی عام مشق کے لیے غیر معمولی پیمانہ سمجھا جا رہا ہے۔
جنگی سرگرمیاں اور اسلحہانٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق مشق میں 20 ہزار سے زائد فوجی، جدید ٹینک، توپیں، مسلح ہیلی کاپٹرز اور ڈرون سسٹم شریک ہوں گے۔ بری فوج کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے رَفال، سوخوئی-30، اور خصوصی نگرانی و ریفولنگ طیارے بھی حصہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارتی جنگی جنون کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم و جبر کا شکار
بحریہ نے گجرات کے ساحل کے قریب فریگیٹس اور ڈسٹرائرز تعینات کیے ہیں تاکہ امفیبیئس آپریشنز کی مشق کی جا سکے۔
آپریشن ’سِندور‘ کے بعد نئی طاقت آزمائیتجزیہ کاروں کے مطابق ‘ترشول‘ دراصل بھارت کی اُس کوشش کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ مئی میں ہونے والے ’آپریشن سِندور‘ کی ناکامی کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔
Tensions flare again at #SirCreek! After Op Sindoor (May ’25 Pahalgam retaliation), India’s “Trishul” exercise focuses westward—Pak scrambles with sudden airspace closures & NOTAMs. Maritime, air & drone posturing intensify—Delhi signalling deterrence, not drift. #IndiaPakistan pic.twitter.com/bmK0z1VoQj
— Dr Aira Ramesh (@DrAiraRamesh_) October 25, 2025
’آپریشن سِندور‘ میں بھارت نے پہلگام حملے کے ردعمل میں پاکستان کے اندر 9 مبینہ دہشتگرد ٹھکانے اور 11 فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، مگر اس کے نتائج متنازع رہے۔ اسی لیے ‘ترشول‘ کو ایک بڑی طاقت نمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں بھارتی عسکری قوت کا دوبارہ اظہار ہے۔
پاکستان کا ردعمل اور حفاظتی اقداماتاسلام آباد نے بھارت کی مشقوں کو ’اشتعال انگیز اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکریک کے قریب بھارتی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان سول ایوی ایشن نے 28 اور 29 اکتوبر کے لیے اپنی جنوبی و مرکزی فضائی حدود کے مخصوص حصوں میں پروازوں پر پابندی لگا دی ہے تاکہ کسی حادثاتی تصادم سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کو پاک بھارت جنگ میں نہ کودنے کا مشورہ دینے والا کون تھا؟
پاکستانی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق ملکی فضائیہ، بحریہ اور بری افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور ساحلی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
بھارتی وارننگ اور سیاسی پیغامبھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر پاکستان نے سرکریک کے علاقے میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی تو جواب ایسا ہوگا جو ’تاریخ اور جغرافیہ بدل دے گا‘۔
India conducted the first-ever Tri-Services Exercise in the Eastern Theatre including the Bay of Bengal. pic.twitter.com/DWVEsntAIH
— News IADN (@NewsIADN) October 14, 2025
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بھارتی انٹیلی جنس نے الزام لگایا کہ پاکستان نے اس علاقے میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
بین الاقوامی ردعملامریکا اور چین دونوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چین نے اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی ہے،
جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ’’بھارت اور پاکستان کے درمیان رابطہ بحال کرنا علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:20 ہزار روپے کا بھارتی جنگی منصوبہ!
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشق نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس 2 ریاستوں کے درمیان کسی غلط فہمی کی صورت میں سنگین بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
بھارت ‘ترشول‘ کو اپنی دفاعی تیاریوں کا معمول کا حصہ قرار دے رہا ہے، مگر اس کی وسعت، مشق کا مقام، اور وقت سب مل کر اس تاثر کو جنم دیتے ہیں کہ نئی دہلی خطے میں اپنی عسکری برتری دکھانے اور ’آپریشن سِندور‘ کے اثرات مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
????????????❌????????:
Pakistan unveils Trident EW system that was used to jam multiple Indian Brahmos Missiles. pic.twitter.com/vp0NqoTPWO
— Tactical Tribune (@TacticalTribun) August 12, 2025
دوسری جانب پاکستان کا ردعمل بتاتا ہے کہ اسلام آباد اس پیش رفت کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل تیاری میں ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ملکوں نے تحمل نہ دکھایا تو جنوبی ایشیا ایک بار پھر غیر یقینی اور خطرناک تصادم کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان ترشول جنگی مشق جنگی مشق ترشول راجستھان سرکریک مسلح افواج نیوکلیئر ہتھیار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ترشول جنگی مشق جنگی مشق ترشول راجستھان سرکریک مسلح افواج نیوکلیئر ہتھیار کے مطابق جنگی مشق کے قریب رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔