آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے عمل میں پیپلز پارٹی سرگرم ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
اس کے بعد وزیراعظم نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی۔ کمیٹی میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام شامل ہیں اور وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات سے قبل مسلم لیگ ن آزاد کشمیر سے مشاورت کر رہی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر نے واضح کیا کہ ن لیگ حکومت سازی کے کسی عمل میں شامل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ ن لیگ اپوزیشن میں رہے گی اور اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان قائرہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ ن لیگ نے اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، تاہم اگر پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نمبرز مکمل ہو جائیں تو وہ کوشش کریں گے کہ حکومت قائم کی جائے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو