وصیت سے متعلق نادیہ افگن کا بیان وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اداکارہ نادیہ افگن نے اپنی ایک حالیہ انسٹاگرام اسٹوری میں معاشرتی رویوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی وفات کے وقت یہ وصیت کریں گی کہ ان کے جنازے میں ’کسی کو کھانا نہ کھلایا جائے‘۔
نادیہ افگن نے یہ بات اپنے والد کے انتقال کے ذاتی تجربے کے تناظر میں لکھی۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا کہ والد کے انتقال کے موقع پر انہیں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ کالونی کے انچارج ان کے پاس آئے اور سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ کرسیاں، ٹینٹ اور کھانے کا انتظام کہاں سے کروانا ہے۔
نادیہ افگن نے کہا کہ اس دن وہ دیر رات تک مہمانوں کی خاطر تواضع اور کھانے کے انتظامات میں مصروف رہیں، جبکہ وہ خود شدید غم اور صدمے میں تھیں جبکہ غم کے اس موقع پر لوگوں کی توجہ دکھ اور تعزیت کے بجائے روایتی انتظامات پر مرکوز تھی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس تجربے نے گہرائی سے متاثر کیا اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے انتقال کے وقت ایسا منظر دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ اس لئے وہ وصیت کریں گی کہ ان کے انتقال پر کسی کو کھانا نہ کھلایا جائے پھر جس کو آنا ہے آئے نہیں آنا نہ آئے۔
نادیہ افگن کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس پر صارفین کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آرہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نادیہ افگن کے انتقال
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں