آسٹریلوی خواتین کرکٹرز سے بدتمیزی کا واقعہ، بھارتی وزیر نے ان کو ہی ذمے دار قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
بھارتی وزیر کیلاش وجے ورگیا نے آسٹریلوی ویمن کرکٹرز سے بدتمیزی کا ذمے دار خود کھلاڑیوں کو ہی قرار دے دیا۔
اندور میں پیش آئے واقعے پر کیبنٹ منسٹر کیلاش وجے ورگیا نے کہا ہے کہ آسٹریلوی ویمن کھلاڑیوں کا بغیر اطلاع باہر جانا ان کی غلطی تھی، اس واقعے سے وہ سبق حاصل کر لیں گی اور مستقبل میں احتیاط کریں گی۔
بھارتی وزیر کیلاش وجے ورگیا نے سیکیورٹی کی ناکامی بھی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی ویمن کھلاڑیوں سے بدتمیزی کا واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی بھی ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے وزیر کے بیان کو بی جے پی کی سوچ قرار دے دیا۔
کانگریس رہنما ارون یادیو نے کہا ہے کہ وزیر کیلاش وجے ورگیا کا بیان ان کی سوچ کا عکاس ہے، ان کا بیان تو بتانے میں بھی گھناؤنا اور گھٹیا ہے۔
کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ پورا ملک اس ہونے والے واقعے پر سرمشار ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں جاری آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے کے دوران آسٹریلوی خواتین کرکٹرز سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ اندور واقعے میں ملوث شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔