حقوق طلبہ پرامن دھرنے پر انتظامیہ کی غنڈہ گردی قابل مذمت ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-05-8
پشاور(جسارت نیوز)ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا اسفندیار عزت نے جامعہ ایبٹ آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام حقوقِ طلبہ کیلیے منعقدہ پرامن دھرنے پر وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ایما پر پولیس گردی اور غنڈہ عناصر کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے کے بیٹے نے انتظامیہ کی پشت پناہی میں نہتے طلبہ پر گاڑی چڑھائی، جبکہ پولیس نے پرامن طلبہ پر لاٹھی چارج کیا، جو بدترین ریاستی جبر کی مثال ہے۔ اسفندیار عزت کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے کالے کرتوت چھپانے کیلیے طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اسی روش کے نتیجے میں ایسے افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کے کارکنان کو نہ ڈرایا جا سکتا ہے نہ دھمکایا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی ملی بھگت، اور طلبہ پر گاڑی چڑھانے جیسے واقعات انتظامیہ کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ بصورتِ دیگر اسلامی جمعیت طلبہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ انتظامیہ کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔