اسلام آباد: ڈانس پارٹیوں اور مساج سینٹرز پر چھاپہ، گرفتار لڑکیوں کو آزاد کروانے کے لیے دباؤ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں پولیس نے ڈانس پارٹیوں اور مساج سینٹرز کے نام پر چلنے والے غیر قانونی جسم فروشی کے اڈوں پر بڑی کارروائی کی۔ تھانہ شالیمار کی ٹیم نے ایک ہی رات میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے اور 21 لڑکیوں اور 19 مردوں کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق، پانچ میں سے تین اڈے ابوظہبی ٹاور میں واقع تھے، جبکہ روز پیلس اور نیچرل راکس نامی مساج سینٹرز پر بھی جسم فروشی کا دھندہ چل رہا تھا۔
گرفتار ملزمان نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا کہ ڈانس پارٹیوں اور مساج سینٹرز کی آڑ میں جسم فروشی کی جا رہی تھی۔ گرفتار لڑکیوں نے الزام لگایا کہ علی ملک نامی شخص لڑکیوں کو 4 ہزار روپے دے کر جسم فروشی پر مجبور کرتا تھا۔ تاہم، علی ملک فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
گرفتار افراد کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گرفتار لڑکیوں کو آزاد کروانے کے لیے کئی سفارشیوں اور بااثر شخصیات نے پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، اور رات بھر فون کالز کا سلسلہ جاری رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک