لاہور کی فضائی کیفیت میں گزشتہ سال کی نسبت نمایاں بہتری ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ماحولیاتی نگرانی سے متعلق ائیر انشیٹو ادارے کے تجزیے کے مطابق رواں برس نومبر میں لاہور کی فضائی کیفیت میں گزشتہ سال کی نسبت نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ائیرکوالٹی انشیٹو کی نمائندہ مریم شاہ کے مطابق 2025 کے نومبر میں روزانہ کی اوسط آلودگی 237 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی جو گزشتہ سال کی بلند ترین سطح 539 مائیکروگرام سے 56 فیصد کم ہے۔اسی طرح ماہانہ اوسط میں بھی 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ کم ہو کر 181 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک آ گئی ہے۔ سالانہ بنیاد پر بھی فضائی آلودگی میں مجموعی طور پر تقریباً 15 فی صد کمی بتائی گئی ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار شدید آلودگی کے وہ عوامل نظر نہیں آئے جنہوں نے شہر کو طویل عرصہ تک دھوئیں اور دھند کی آڑ میں رکھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی میں موسم نے بھی اپنا کردار ادا کیا، جہاں بہتر ہوائوں اور فضا میں مکسنگ سے آلودگی کے جمع ہونے کی شرح کم رہی۔اگرچہ بلند ترین آلودگی والے دن ختم ہوئے، مگر مجموعی آلودگی کی بنیادی سطح اب بھی تشویش ناک ہے۔مریم شاہ کے مطابق ماہِ نومبر کے تمام 30 دن پنجاب کے ماحولیاتی معیار کے مقابلے میں غیر محفوظ رہے، جہاں صحت کے لیے قابل قبول حد 35 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر ہے۔اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کی بہتری حوصلہ افزا ء ضرور ہے مگر اسے مستقل رجحان ثابت کرنے کے لیے آئندہ برسوں کے اعداد و شمار زیادہ اہم ہوں گے۔ اگر یہ مثبت سلسلہ جاری رہا تو حکومتی اقدامات کے اثرات واضح ہوں گے، بصورت دیگر موسم اور دیگر عوامل کی حقیقی نوعیت کو نئے سرے سے سمجھنا ہوگا۔نومبر میں شہر لاہور کی مجموعی فضائی آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک حد یعنی 300 سے اوپر نہیں پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔