سرحدی بندش اور بارشوں کی کمی سے چلغوزے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ملک میں چلغوزے کی قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایک کلو چلغوزہ، جس کی قیمت پہلے 15 ہزار سے 18 ہزار روپے کے درمیان تھی، اب گھٹ کر 6 ہزار سے 9 ہزار روپے رہ گئی ہے۔
بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی میں اس سیزن کے دوران چلغوزہ 3 ہزار سے 5 ہزار روپے فی کلو تک بھی فروخت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دیامر کے چلغوزے بہت زیادہ مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟
بلوچستان کے کسانوں اور تاجروں کے مطابق پاک افغان بارڈر کی بندش اور بارشوں کی کمی اس نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ کسٹمز حکام کی جانب سے ٹرکوں کو گھنٹوں روکنے سے نہ صرف تاخیر ہوتی ہے بلکہ چلغوزے کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔
تاجروں نے شکایت کی کہ چلغوزہ ایک نہایت حساس، مہنگا اور جلد خراب ہونے والا خشک میوہ ہے، جس کی قدر معمولی تاخیر سے بھی کم ہوجاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کو اگر کئی گھنٹوں یا پورا دن روک لیا جائے تو قیمت فوراً گر جاتی ہے۔
چلغوزے کی قیمت میں نمایاں کمی وجوہات جو بھی ہوں، صارفین اس کمی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنوں کی قدیم چلغوزہ منڈی جہاں سے یہ سوغات دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ چلغوزے کو اگر کولڈ اسٹوریج میں نہ رکھا جائے تو اس کا وزن کم ہونے لگتا ہے۔
بلوچستان میں کولڈ اسٹوریج سہولیات کی کمی کے باعث تاجر چلغوزہ سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
اسی وجہ سے مقامی طور پر شہروں چلغوزے کی میں قیمت میں مزید کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان چلغوزہ خشک میوہ ڈرائی فروٹ شیرانی ضلع ژوب قیمت کولڈ اسٹوریج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان چلغوزہ خشک میوہ ڈرائی فروٹ ضلع ژوب چلغوزے کی کی قیمت
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز