قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کیساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے بروقت تکمیل کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت خود کروں گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اصلاحات میں معاونت پر وزیراعظم نے شراکت داروں، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا شکریہ ادا کیا ۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
اجلاس کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے انسانی وسائل کو منصوبوں کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے مقاصد اور امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ بروقت پروکیورمنٹ نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ای-پروکیورمنٹ اور پراجیکٹ ریڈی نیس کی سہولیات کی فراہمی سے پروکیورمنٹ کو تیز رفتار بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں منظوری کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جن کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
اجلاس میں اصلاحات کے حوالے سے چار ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز دی گئی۔ پہلا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے منظوری کے مراحل اور تیاری کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ۔ دوسرا ورکنگ گروپ پروکیورمنٹ کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔ تیسرا ورکنگ گروپ منصوبوں کے لئے زمین کے حصول اور ری-سیٹیلمینٹ کے معاملات میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ہو گا جبکہ چوتھا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انسانی وسائل اور اسٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کے والد انتقال کر گئے
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ, وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹرز سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے۔
سندھ ہائی کورٹ؛ موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے حوالے سے اصلاحات ترقیاتی منصوبوں کے میں اصلاحات منصوبوں کی ورکنگ گروپ وفاقی وزیر اجلاس کو
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔