پاکستانیوں سمیت سو سے زائد تارکین وطن امریکہ سے ملک بدر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 فروری 2025ء) امریکہ سے ملک بدر کر کے پاناما بھیجنے کا یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔
پاناما کے صدر راؤل مولینو نے جمعرات 13 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ سے پہلی پرواز، پاکستان، افغانستان، چین، بھارت، ایران، نیپال، سری لنکا، ترکی، ازبکستان اور ویتنام کے لوگوں کو لے کر بدھ کو پہنچی، اور جلد ہی دو مزید پروزایں اتریں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ مجموعی طور پر 360 افراد کو تین پروازوں سے پاناما بھیجے گا۔امریکہ سے ملک بدری: غیر قانونی تارکین وطن کا پہلا گروپ واپس بھارت میں
مولینو نے کہا کہ امریکی فضائیہ کا ایک طیارہ دارالحکومت پاناما سٹی کے مغرب میں ہاورڈ میں اترا، اور اس میں سوار 119 تارکین وطن کو ہوٹلوں میں لے جایا گیا۔
(جاری ہے)
ان کے اپنے ممالک میں واپس بھیجنے سے پہلے، ملک بدر کیے جانے والے ان لوگوں کو ڈیرین کے قریب ایک پناہ گاہ میں منتقل کیا جائے گا۔
ڈیرین وسطی امریکہ کو جنوبی امریکہ سے الگ کرنے والا جنگل ہے۔بہت سے تارکین وطن بہتر زندگی کی تلاش میں پاناما کے علاقے ڈیرین میں جنگلی جانوروں اور جرائم پیشہ گروہوں کا مقابلہ کرتے ہوئے خطرناک سفر کر کے امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکہ کا اب 'مجرم' تارکین وطن کو گوانتانامو بے میں رکھنے کا فیصلہ
صدر راؤل مولینو نے، جنہوں نے امریکہ سے نکالے جانے والے تارکین وطن کو اپنے ملک میں عارضی طور پر ٹھہرانے کی پیشکش کی تھی، کہا کہ طیارہ بدھ کو ’انتہائی متنوع قومیتوں کے لوگوں‘ کے ساتھ پہنچا، جن میں سے بہت سے ایشیا سے ہیں۔
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکہ میں موجود ایک کروڑ 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کا تعلق لاطینی امریکی ممالک سے ہے۔
امریکہ اور پاناما میں معاہدہاس ماہ کے اوائل میں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت کے بعد، مولینو نے مزید تارکین وطن کی وطن واپسی کے امکان کا خاکہ پیش کیا تھا۔
اس میٹنگ میں مولینو نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ جولائی میں دستخط کیے گئے مفاہمت کی یادداشت میں توسیع کی جا سکتی ہے تاکہ وینزویلا، کولمبیا اور ایکواڈور کے باشندوں کو امریکی خرچ پر ڈیرین گیپ سے پانامہ کی فضائی پٹی کے ذریعے واپس لایا جا سکے۔
ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی افغان شہریوں کے لیے بڑا دھچکہ
پاناما کے نائب وزیر برائے سکیورٹی لوئس اکزا نے کہا کہ پاناما اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعاون کی بدولت ایک سال پہلے کے اسی مہینے کے مقابلے جنوری میں ڈیرین کو عبور کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔
ٹرمپ کے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے غیر قانونی تارکین وطن، کولمبیا، وینزویلا، برازیل اور گوئٹے مالا کے علاوہ کیوبا میں واقع بدنام زمانہ گوانتانامو امریکی فوجی اڈے پر بھی گئے ہیں۔
امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد ٹرمپ نے جنوبی امریکی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان اور لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ج ا/ا ب ا (روئٹرز، اے ایف پی)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تارکین وطن کو امریکہ سے مولینو نے ملک بدر کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔