کوہاٹ: تاندہ ڈیم کے قریب فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
کوہاٹ میں تفریحی مقام تانڈہ ڈیم کے قریب فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، تفتیش کا عمل جاری ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق کوہاٹ کے تفریحی مقام تانڈہ ڈیم پر فائرنگ کے واقعے میں 2 پولیس اہلکار غلام مصطفیٰ اور زاہد الرحمٰن جاں بحق ہوگئے، ڈی پی او ڈاکٹر زاہد کے مطابق پولیس کی بھاری نفری موقع پر روانہ کردی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، ملزمان جائے وقوع سے فرار ہوگئے، تفتیشی عمل جاری ہے۔
دریں اثنا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں غلام مصطفیٰ اور زاہد الرحمٰن کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں غلام مصطفیٰ اور زاہد الرحمٰن نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، خیبرپختونخوا پولیس کے سپوتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔