کراچی کے علاقے گلشن حدید میں لوٹ مار کے دوران شہری کو قتل کردیا گیا جب کہ ورثا نے احتجاج کرتے ہوئے نیشنل ہوئی وے بلاک کردی۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل کیے گئے شوروم مالک  مقتول خان عالم کے کزن رحمت جان محسود نے جناح اسپتال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بینک سے رقم لے کر آرہے تھے، مقتول گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکووں نے قریب آتے ہی گولی چلائی، مقتول کا ساتھی فائرنگ سے محفوظ رہا، گلشن حدید کے رہائشی شخص سے گاڑی خریدیں تھی، اسے رقم دینے جارہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتول دو بچوں کا باپ تھا، روزگار کے سلسلے میں کراچی آیا تھا، مقتول کی فیملی وزیرستان میں ہے، شوروم میں ہی رہائش اختیار کر رکھی تھی۔

مقتول کے کزن نے کہا کہ اس شہر میں نہ جان محفوظ ہے، نہ مال محفوظ ہے، ڈاکو رقم بھی لے گئے، لائسنس یافتہ پستول بھی لے گئے، اپنے ہی پیسے کی خاطر جان بھی دے رہے ہیں، اور کیا کریں اس شہر میں؟ سب کچھ حکومت کے سامنے ہے، چاہتے ہیں قاتل جلد گرفتار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ رقم لے کر نکلنے کی اطلاع ممکنہ طور پر بینک سے ڈاکوؤں کو دی گئی، تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بعد ازاں مقتول کے ورثا نے احتجاج کرتے ہوئے نیشنل ہوئی وے بلاک کردی جس کے باعث ٹھٹھہ سے کراچی آنے والی ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی

ٹریفک پولیس نے کہا کہ احتجاج  جاں بحق نوجوان کے لواحقین اور ساتھی شوروم مالکان کی جانب سے کیا جارہا ہے، ٹریفک کو پورٹ قاسم سے اندرون علاقہ اور لنک روڈ سے اندرون علاقہ کی طرف بھیج رہے ہیں۔

https://cdn.

jwplayer.com/players/41XbpOEw-jBGrqoj9.htm

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن