Daily Sub News:
2026-06-03@08:44:56 GMT

امن کیوں ضروری ہے

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

امن کیوں ضروری ہے

امن کیوں ضروری ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 10 May, 2025 سب نیوز

تحریر: جیپال سنگھ

چھ مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستانی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں اور اسکیلپ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بہاولپور، مرادکے، سیالکوٹ، بھمبر، کوٹلی، مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں حملے کیے۔ ان حملوں میں 31 پاکستانی شہری جاں بحق اور 46 سے زائد زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان احمدپور شرقیہ میں ہوا، جہاں ایک مسجد پر حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک تین سالہ بچی بھی شامل تھی۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے گئے، تاہم بھارت نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ آج کل انڈیا اور پاکستان کے حالات بہت کشیدہ ہیں یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے یہ کئ دہایوں سے چلتا آ رہا ہے اور یہ حالات ایسے ہی رہیں گے کبھی کارگل کی جنگ کی صورت کبھی پٹھانکوٹ کبھی پلوانہ حملہ ہو لیکن پچھلے 15 سال سے جو کچھ ہو رہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ اس طرح کے حالات ہوئے تھے.

اگر حالات ہوئے بھی تھے لیکن حق کو بند کرنا لوگوں کو دربدر کرنا ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا.پچھلے 15 سال سے انڈیا میں نفرت کی سیاست کی گئی ہے اس سے صرف اور صرف انڈیا کا نقصان ہوا ہے کبھی بیگناہ کشمیریوں کو قتل کیا جاتا ہے تو کبھی بےگناہ مسلمانوں کو یا پھر کوئ بھی بے بنیاد حملہ کر کے پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے لیکن کبھی ثبوت نہیں دیا کہ اس میں پاکستان ملوث ہے یہ چیزیں شعوری ذہنوں کو نفرت کی طرف لی جاتی ہے اور امن کو تباہ کر دیتی ہےاگر دونوں ممالک جنگ کی طرف جاتے ہیں تو اس میں صرف اور صرف تباہی ہو گی دونوں ملک تباہ ہو سکتے ہیں اور سب سے زیادی بڑھ کر وہ لوگ تباہ ہو سکتے ہیں جو غریبت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں

کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسکا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ دو وقت کی روٹی کیسے کمائی جائے اور اولاد کو اچھی تعلیم کیسے دی جائے اس کے علاوہ یہ کچھ سوچتے بھی نہیں پھر جنگ ہونے سے ان کو کیا فائدہ ہو گا ؟یہ تو پہلے سے ہی معاشی طور پر تباہ ہے اور زائدہ تباہ ہو جائیں گے اسی لئے جنگ حل نہیں ہے جنگ خود ایک مسئلہ ہے جو تباہی کی طرف لے جاتی ہے اس جدید دنیا میں اگر جنگ کرنی ہے تو ٹیکنالوجی اور معشیت کے میدانوں میں کریں ہتھیاروں کے ساتھ نہیں اگر جنگ کرنی ہے تو پہلے امن اور محبت قائم کرنے میں کریں کیوں کہ اصلی جیت تو محبت اور امن قائم کرنے میں ہوگی

اب نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ نفرت کی سیاست کو دفن کر دے کیوں کہ اس نے نفرت کی سیاست میں انڈیا کو تباہ کر دیا ہے اور آب کوئی بھی انڈین یہ نہیں چاہتا ہے کہ نفرت کی سیاست چلے اس سے مودی کو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن انڈیا کی عوام کو نہیں۔اگر یہ حالات رہے تو انڈیا تباہی کی طرف جائے گا پھر اس تباہی کے بعد آنے والا مستقبل بھی روشن نظر نہیں آ رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت پاکستان کے ساتھ تنازع کو مزید نہیں بڑھانا چاہتا ،سفارتی و عسکری حکام کی بریفنگ یہ فوج ہماری ہے ترکوں کا ہیرو،  اپنے گھر میں اجنبی! پہلگام کاخونیں ناٹک !! سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور شملہ معاہدے کی معطلی: قانونی نقطہ نظر اور ماں چلی گئی ماں کے بغیر پہلی عید کا کرب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف