Express News:
2026-07-24@08:24:04 GMT

کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

جب توپیں بولتی ہیں تو صرف بارود نہیں گرتا انسانیت کی امیدیں بھی ریزہ ریزہ ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپ جسے اب تین دن کی جنگ کہا جا رہا ہے، ایک لمحہ تھا جب دنیا ایک بار پھر ایٹمی تباہی کے دہانے پرکھڑی ہوگئی تھی۔ جو خاموشی اب قائم ہوئی ہے وہ صرف ایک عسکری توقف نہیں، وہ انسانیت کی آخری پکار ہے۔ اگر یہ سیز فائر نہ ہوتا، اگر جنگ کی آگ کو وقت پر بجھایا نہ جاتا تو اس کا شعلہ نہ صرف لاہور، دہلی، سری نگر اور بمبئی کو جھلساتا بلکہ پورے خطے اور شاید پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیتا۔

ہم جو برصغیر کے باسی ہیں، جانتے ہیں کہ ہمارے آنگن میں جنگ کبھی دور نہیں رہی۔ 1947 سے اب تک کتنی جنگیں ہوچکی ہیں؟ کتنے بچے یتیم، کتنی عورتیں بیوہ ہو گئیں، ماؤں سے ان کے بیٹے چھن گئے اور ان دونوں ممالک کی عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے؟ کیا ہم نے اب تک کچھ نہیں سیکھا؟جنگ جب لڑی جاتی ہے تو نقصان تو عام آدمی کا ہوتا ہے، مگر اس بار دنیا نے جس شدت سے اس کشیدگی کو محسوس کیا وہ اس لیے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں اور آج کی دنیا میں اگرکوئی ایک ایٹمی میزائل حرکت میں آتا ہے تو اس کی گونج صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔چین ترکی یہاں تک کہ امریکا بھی ایک دم متحرک ہو گیا۔ یورپی دارالحکومتوں میں خفیہ اجلاس روس کے میڈیا میں فکرمندی اور جاپان سے لے کر آسٹریلیا تک نیوز رومز میں اضطراب، یہ سب اس لیے کہ دنیا جانتی ہے پاکستان اور بھارت اگر جنگ میں الجھ گئے تو یہ تیسری عالمی جنگ کی پہلی چنگاری ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے جواب دیا،بھارت نے الزام لگایا لیکن اصل بات جو وقت نے ثابت کی وہ یہ ہے کہ دونوں قوموں کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ یہ صرف ایک سیزفائر نہیں، یہ وقت کی طرف سے ایک آخری مہلت ہے اور اگر ہم نے اب بھی نفرت اور جنگی جنون کو لگام نہ دی تو اگلی بار یہ مہلت شاید نہ ملے۔امن کی راہ کمزوروں کا انتخاب نہیں شعور والوں کا فیصلہ ہوتا ہے، جو قومیں تاریخ سے سبق لیتی ہیں وہ بندوق کو نیام میں رکھ کر قلم اٹھاتی ہیں۔ ہمیں وہی راستہ اپنانا ہوگا۔سیز فائر کے بعد ہمیں جنگ کی نفسیات کو جڑ سے پکڑنا ہے۔ ہمیں اپنی کتابوں اپنے اسکولوں اپنے میڈیا اور اپنے سیاست دانوں سے یہ پوچھنا ہے کہ کیوں ہم بار بار نفرت کے بیج بوتے ہیں؟ کیوں ہم اپنی نسلوں کو دوسرے کی تباہی میں خوشی تلاش کرنے کی تربیت دیتے ہیں؟ کیوں ہماری سرحدیں صرف فوجی نقطہ نظر سے دیکھی جاتی ہیں انسانی نقطہ نظر سے نہیں؟

برصغیر کے پاس دنیا کو دینے کے لیے تہذیب علم و ادب اور فن کی ہزاروں سالہ تاریخ ہے، مگر ہم نے اسے جنگی سیاست کی گرد میں چھپا دیا ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی اصل پہچان اپنے انسان ہونے کی پہچان کو زندہ کریں۔ہمیں امن کی بات کرنی ہے مگر ایک نئی زبان میں ایسی زبان جو خوف سے نہیں حوصلے سے بولی جائے۔ ایسی بات جو کمزوری سے نہیں شعور اور دوراندیشی سے کی جائے۔

آج جب میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں تو مجھے پاپ فرانسس کی ایک بات یاد آئی’’ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ صرف نئے مسائل پیدا کرتی ہے‘‘ اور جب میں غزہ کے بچوں یوکرین کے پناہ گزینوں اور روہنگیا کے کیمپوں کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی اگر نہ سنبھلے تو یہ خطہ بھی ایسی ہی بربادی کا استعارہ بن جائے گا۔ یہ سیز فائر ایک آخری موقع ہے، ہمیں مکالمے، معاہدے، عوامی رابطوں ثقافتی تبادلوں اور تعلیمی تعاون کی نئی بنیاد رکھنی ہوگی۔ ہماری دشمنی کی زمین پر اب نئی فصل کاشت ہونی چاہیے امن کی فصل۔ ورنہ توپوں کے شور میں صرف دشمن کی نہیں ہماری اپنی نسلوں کی آوازیں بھی دب جائیں گی۔

جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں وہ لفظوں، نظریوں اور پراپیگنڈے سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ ہمارے میڈیا نے ہمارے رہنماؤں نے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیمی نظام نے بھی نفرت کے ایسے بیج بو دیے ہیں جن کی فصل ہمیں ہر چند سال بعد جنگ کی صورت کاٹنی پڑتی ہے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو سکھایا کہ دشمن کی تباہی ہماری فتح ہے، ہم نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ انسانیت کی بقا ہی اصل کامیابی ہے۔  یہ خاموشی جو آج قائم ہے یہ کوئی فتح کی گواہی نہیں، یہ ایک ہار ہے ہماری عقل کی ہار ہماری دانش کی ہار ہمارے ضمیرکی ہارکیونکہ اگر ہم واقعی جیت گئے ہوتے تو ہمیں ہر بار سیز فائرکی بھیک نہ مانگنی پڑتی۔ ہمیں دنیا میں ثالثی کے لیے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑتے۔

جب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا طبل بجتا ہے، اس کی گونج صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہرگلی، ہر محلے، ہرگھر میں سنائی دیتی ہے۔ یہ جنگیں چاہے چند دن کی ہوں یا مہینوں پر محیط ان کا سب سے بڑا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے، وہ کسان جو کھیتوں میں ہل چلاتا ہے وہ مزدور جو فیکٹری میں کام کرتا ہے وہ ماں جو اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا کرتی ہے وہ بچہ جو خوفزدہ ہوکر سوال کرتا ہے کہ جنگ کیوں ہوتی ہے یہ سب اس المیے کا حصہ ہوتے ہیں جسے ہم جنگ کہتے ہیں۔جب جنگ ہوتی ہے تو صرف فوجی محاذ پر لوگ نہیں مرتے، زندگی کے ہر شعبے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ معیشت کمزور ہو جاتی ہے تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں مہنگائی بڑھتی ہے اور بے یقینی کا عالم چھا جاتا ہے۔ جو سرحد کے قریب بستے ہیں ان کے لیے ہر دن زندگی اور موت کے بیچ کا ایک پل ہوتا ہے۔

بھارت میں بھی حالات مختلف نہیں ہوتے۔ وہاں کے لوگ بھی اسی طرح خوف غم اور غیر یقینی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جب بمبئی یا دہلی میں حملے ہوتے ہیں یا سرحد پر بھارتی فوجی مارے جاتے ہیں تو وہاں بھی والدین تڑپتے ہیں اور بچے یتیم ہوتے ہیں۔ جنگ کی آگ دونوں طرف کے میڈیا میں جوش و خروش لاتی ہے لیکن اس شور میں انسانی المیہ دب جاتا ہے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ نسلوں کے درمیان نفرت کا بیج بو دیتی ہے۔

اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب ٹی وی پر چلنے والے تبصرے اور سیاست دانوں کی تقریریں ایسی فضا بناتی ہیں جس میں دشمن صرف سرحد کے اس پار کا نہیں ہوتا بلکہ ہر اس شخص کو دشمن سمجھا جانے لگتا ہے جو امن کی بات کرے۔ یوں انسان، انسان سے کٹ جاتا ہے، رشتے بے معنی ہو جاتے ہیں اور انسانیت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔جب کبھی دونوں ملکوں کے درمیان کچھ بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے ،کوئی امن معاہدہ، کوئی کرکٹ سیریز یا کوئی ثقافتی تبادلہ تو عوام میں بھی ایک تازگی،ایک خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ عام زندگی گزاریں، اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دیں اور نفرت کی دیواروں کو توڑ کر ایک دوسرے کو انسان کی حیثیت سے دیکھیں۔ مگر افسوس کہ یہ امیدیں بار بار ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ جنگ کا کاروبارکرنے والے طاقتور اور منظم ہیں اور ان کا فائدہ نفرت میں ہوتا ہے۔

جنگوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ نئے مسائل جنم لیتے ہیں، اگر دونوں ملک اپنی توانائی، تعلیم، صحت، تجارت اور انسانی ترقی پر لگائیں تو کروڑوں لوگوں کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، مگر جب تک جنگ کو بہادری اور امن کوکمزوری سمجھا جاتا رہے گا، تب تک عام لوگ اسی طرح اذیت سہتے رہیں گے اور غربت اور جہالت کے اندھیروں سے کبھی باہر نہیں آ پائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان ہوتے ہیں ہوتا ہے ہیں اور سے نہیں جنگ کی امن کی اور ان

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف