کراچی، پاک کالونی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ملزم ہلاک، اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں پاک کالونی کے علاقے جہان آباد میں پولیس اور مشتبہ ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران ایک ملزم ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس نے موقع سے اسلحہ اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر لی۔
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق پولیس علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی تھی کہ اس دوران ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔
مزید پڑھیں: کراچی، شاہین فورس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ، 2 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی پر ایک ملزم موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے، جسے مزید تفتیش کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہو گیا
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔