وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کیا تو پاکستان ایسا جواب دے گا، جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔

پسرور کینٹ کے دورے کے موقع پر افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارت سے جو جنگ لڑی اور جیتی اس پر کتابیں لکھی جائیں گی، میں تینوں مسلح افواج کی قیادت اور جوانوں کو مادر وطن کی حفاظت پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہاکہ پاک فوج نے دشمنوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیے ہیں، بھارت کی جانب سے اگر دوبارہ مہم جوئی کی گئی تو ہمیں پھر بھی تیار پائےگا، ہم امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں۔

شہباز شریف نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آگ لگانے کے بجائے آگے بڑھنے کی بات کریں، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، لیکن اسے ہر گز ہماری کمزوری مت سمجھا جائے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، اس لیے مودی دہشتگردی کے بھاشن اپنے پاس رکھیں۔

شہباز شریف نے بھارت پر واضح کیا کہ کبھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سوچنا بھی کچھ نہیں کیوں کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور اس سے دستبردار نہیں ہوں گے، اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو واضح اعلان ہے کہ پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

وزیراعظم نے کہاکہ بھارت کو اپنے رافیل جہاز کا غرور تھا جو خاک میں مل گیا، بھارت خود کو اس علاقے کا تھانیدار سمجھتا تھا، لیکن اب جھوٹا تاثر ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بھارت سے مربوط ڈائیلاگ ہوگا، یہ نہیں ہوگا کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو، ہم بھارت سے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر جامع مذاکرات کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد، سپہ سالا عاصم منیر، ایئرمارشل ظہیر بابر اور نیول چیف نوید اشرف کو اور تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں کو سلام اور 24 کروڑ عوام کی طرف سے مبارک باد دینے آیا ہوں۔

وزیراعظم نے کہاکہ جس طرح سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے انتہائی دلیری اور دانسمندی سے اس پوری جنگ کی حکمت عملی بنائی، میں ذاتی طور پر اسکا گواہ ہوں۔ جنرل عاصم منیر قوم کے بیٹے ہیں، مجھے ان پر فخر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آپریشن بنیان مرصوص آرمی چیف پاک فوج پاکستان بھارت جنگ دورہ سیالکوٹ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص ا رمی چیف پاک فوج پاکستان بھارت جنگ سیالکوٹ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز شہباز شریف بھارت سے انہوں نے نے کہاکہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ