Daily Ausaf:
2026-07-24@06:33:20 GMT

پاکستان، چین اور ترکی کا اتحاد

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

عالمی طاقت کا نیا مرکزآج کی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاسی صورتحال میں پاکستان، چین اور ترکی کے درمیان مضبوط ہوتا اتحاد ایک نئی عالمی طاقت کے ابھرنے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ یہ تینوں ممالک نہ صرف فوجی اور معاشی شعبوں میں گہرے تعاون کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس اتحاد کے ممکنہ اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان، چین اور ترکی کے درمیان فوجی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے جو اب ایک نئی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعلق JF-17 تھنڈر جیسے مشترکہ منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے، جو پاک فضائیہ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ چین کی جانب سے جدید ترین ہوائی دفاعی نظاموں کی فراہمی نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں قابل ذکر اضافہ کیا ہے۔
ترکی نے اپنی جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید جنگ کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ترکی کے بیقرطار ٹی بی 2 ڈرونز نے نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی بڑھاوا دیا ہے۔ پاکستان نے ترکی کے ساتھ مل کر حسین ڈرون پروگرام شروع کیا ہے جو خطے میں دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری اس خطے کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچہ منصوبہ ہے جو چین اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے گیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو تقویت دے رہا ہے بلکہ چین کو بحر ہند تک رسائی فراہم کر کے اس کی تجارتی پوزیشن کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
ترکی اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو نئی راہیں دی ہیں۔ ترکی کی کمپنیاں پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی کمپنیاں ترکی میں اپنا کاروبار پھیلا رہی ہیں۔
چین کی سپر ٹیکنالوجی، خاص طور پرمصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ترقی، اس اتحاد کو ایک نئی طاقت فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان اور ترکی چین کی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ اپنی اپنی تحقیق و ترقی کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ترکی کا دفاعی صنعت میں خود انحصار ہونا اور پاکستان کا جوہری طاقت ہونا اس اتحاد کوایک منفرد طاقت بناتا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ طور پر جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جو انہیں عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بنا سکتی ہے۔
پاکستان، چین اور ترکی کے درمیان تعلقات صرف معاشی یا فوجی نوعیت کے نہیں ہیں۔ ان ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی ربط بھی موجود ہے۔ چین اور پاکستان کے تعلقات کو ’’دوستی سے بلند تر‘‘ قرار دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ تینوں ممالک اگر اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بناتے ہیں تو وہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کے مقابلے میں یہ اتحاد ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
پاکستان، چین اور ترکی کا اتحاد ایک نئی قسم کی عالمی طاقت کی تشکیل کی نشاندہی کر رہا ہے جو فوجی، معاشی اور تکنیکی اعتبار سے خود انحصار ہے۔ اگرچہ اس اتحاد کو کئی چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے امکانات بے پناہ ہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ اتحاد عالمی سیاست کو کس طرح تشکیل دیتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: چین اور ترکی اور پاکستان اور ترکی کے کے درمیان اتحاد کو اس اتحاد رہے ہیں ایک نئی رہا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار