Daily Ausaf:
2026-07-24@05:35:56 GMT

پسِ پردہ اسرائیلی دماغ اور مشن فلسطین

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

جنوبی ایشیا ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے گھنائونے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ بظاہر تو منظرنامے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک روایتی فوجی کشیدگی دکھائی دی لیکن حقیقت کہیں زیادہ گہری، پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ پاکستان پر حالیہ بھارتی حملہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بین الاقوامی گٹھ جوڑ تھا اور بھارت محض ایک مہرہ تھا جبکہ چالیں کہیں اور سے چلائی جا رہی تھیں۔
اگر اس حملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ حملہ بھارت کا نہیں بلکہ اسرائیل کا حملہ تھا۔ اور اس پورے عمل میں امریکہ کی آشیر باد، ہلہ شیری اور اسٹریٹجک حمایت شامل تھی۔ اس حملے کے محرکات اس کے پیچھے موجود کردار اور پاکستانی فوج کا زبردست دفاع یہ سب مل کر ایک نئی عالمی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک مشکوک حملہ ہوا، جس کی ذمہ داری حسبِ معمول بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر ڈال دی گئی۔ یہ ایک پرانا ہتھکنڈہ تھا۔پہلگام واقعہ کے فورا بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے نہ صرف بھارت کو ہمدردی کا یقین دلایا بلکہ واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کو پاکستان پر محدود پیمانے پر ایسا حملہ کرنا چاہیے جو خطے میں کشیدگی کو حد سے نہ بڑھائے۔
یہ بیان کسی عام سیاسی تجزیے یا مبہم سفارتی موقف سے مختلف تھا۔ یہ ایک واضح گرین سگنل تھا ۔ ایک غیر اعلانیہ اجازت نامہ کہ بھارت آگے بڑھے حملہ کرے اور ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس بیان کے فوراً بعد بھارت نے جارحانہ تیاریوں کا آغاز کر دیا۔
بھارت کے پاس عسکری صلاحیتیں تو ہیں لیکن اس درجے کے ہائی ٹیک حملے کی منصوبہ بندی، تکنیکی نفاذ اور نگرانی کے پیچھے جو دماغ تھا وہ بھارت کا نہیں تھا۔ یہ مکمل آپریشن اسرائیل کی دفاعی اسٹریٹجی اور ٹیکنالوجی کا عکس تھا۔اسرائیل نے اس حملے کو ’’مشن فلسطین نائن‘‘ کے کوڈ نیم سے شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو بھی اسی ماڈل پر ڈیل کیا جائے جیسے فلسطین کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ مسلسل فضائی حملے، ڈرونز کی بمباری، انٹیلی جنس کی بنیاد پر مخصوص ہدف بندی، اور ایک مستقل حالتِ خوف۔پاکستان کے فضائی حدود میں درجنوں اسرائیلی ساختہ ڈرونز کی موجودگی ان کا جدید ترین الیکٹرانک جنگی نظام اور ان کا منظم انداز میں پاکستانی دفاعی پوزیشنز پر حملہ کرنا یہ تمام چیزیں ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ اسرائیل نہ صرف شریک تھا بلکہ اس پوری کارروائی کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
ان حملوں کے ساتھ ہی معلوم ہوا کہ بھارت کے پشت پر اسرائیل کی مدد سے 300 جنگی طیارے تیار کھڑے تھے جو کسی بھی وقت بڑے حملے میں شامل ہو سکتے تھے۔ دشمن اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ وہ پاکستان کو صرف چند گھنٹوں میں دفاعی طور پر مفلوج کر دے گا، لیکن پاکستان کی سرزمین، قوم اور افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ دشمن کو کرارا جواب دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔
جیسے ہی دشمن نے اپنی جارحیت کا آغاز کیا پاکستانی افواج نے فوری ردعمل دیا۔ پاکستانی فوج اور ایئر فورس نے انتہائی مہارت کے ساتھ درجنوں دشمن ڈرونز کو مار گرایا جن میں سے کچھ کے ملبے بعد میں میڈیا پر بھی دکھائے گئے۔ پاکستانی فوج نے اپنی فضائی، زمینی اور انٹیلی جنس یونٹس کے باہم اشتراک سے ایک شاندار دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ اسرائیلی اور بھارتی منصوبہ سازوں کو اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ پاکستان نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے بلکہ اس کی افواج مسلسل جنگی مشقوں اور آپریشنل تیاریوں کی حالت میں ہیں۔ دشمن کو اتنی بڑی فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ مودی سرکار اور اسرائیلی عہدیداروں کو امریکہ کے دروازے پر جانا پڑا۔
جب بھارتی اور اسرائیلی اتحاد کو ناکامی کا سامنا ہوا اور بھارت کی ملٹری تنصیبات اور ائیر بیسز تباہ ہونا شروع ہو گئیں اور رافیل طیارے تباہ ہونا شروع ہو گئے تو انہوں نے وہی دروازہ کھٹکھٹایا جس سے اجازت لی تھی ۔ امریکہ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مداخلت کرنی پڑی۔ ٹرمپ نے پاکستان سے رابطہ کیا اور سیز فائر کی درخواست کی۔
امریکہ کو سمجھ آگئی تھی کہ یہ کھیل اب اس کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔بعد ازاں، امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں مجھے سب سے زیادہ سراہا جانے والا اقدام پاک بھارت جنگ بندی کو کامیاب بنانا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی افواج، ذہانت اور صلاحیتوں کی بھی برملا تعریف کی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا۔ہم پاکستان کو نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ پاکستان سے ہماری بات چیت نہایت عمدہ رہی۔ انہوں نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیز فائر پر آمادگی ظاہر کی۔
اس تمام تر صورتحال میں بھارت کو شدید نقصانِ عزت کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں ایک طرف اسرائیل کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں مودی سرکار پر خود اپنے ملک کے اندر شدید دبا بڑھا۔ بھارتی میڈیا نے اس ناکامی کو ’’تاریخی شکست‘‘ قرار دیا۔ امریکہ بھی بھارت سے ناخوش نظر آیا کیونکہ اس نے جو کردار ادا کرنے کا دعوی کیا تھا، وہ حقیقت میں صفر نکلا۔
امریکی حکام نے بند دروازوں کے پیچھے یہ کہا کہ “بھارت نے ہمیں مایوس کیا۔ ہم نے اس پر بھروسہ کیا، اسے ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس فراہم کی، مگر وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکا۔
یہ حملہ پاکستان کے لیے ایک امتحان بھی تھا اور موقع بھی۔ اس حملے نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان اب کوئی آسان ہدف نہیں۔ اسرائیل اور بھارت جیسے جارح ممالک کو سبق سکھانے کے لیے صرف طاقت نہیں، بلکہ غیر متزلزل عزم، عقیدہ، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت درکار ہوتی ہے جو صرف پاکستان کی افواج اور عوام کے پاس ہے۔یہ واقعہ ایک نئے عالمی اسٹریٹجک توازن کی بنیاد بنے گا۔ اب امریکہ اور یورپی ممالک بھی پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور ہوں گے۔ کیونکہ پاکستان نے نہ صرف عسکری فتح حاصل کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی خود کو ایک ذمہ دار اور پرعزم طاقت کے طور پر منوایا ہے۔
یہ معرکہ ختم ہوا مگر جنگ ختم نہیں ہوئی۔ دشمن اب بھی موجود ہے، شاید کسی نئی چال کے ساتھ، کسی اور وقت، کسی اور محاذ پر۔ لیکن ایک چیز طے ہو گئی: پاکستان اب تنہا نہیں، کمزور نہیں اور لاچار نہیں۔ یہ ملک اپنے دشمن کو پہچان چکا ہے اور ہر وار کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ قومی سلامتی کے حوالے سے ہوشیار رہیں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم نہ صرف اپنے دفاع میں خودکفیل ہیں بلکہ ظلم کے خلاف عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے کہ پاکستان اور بھارت کے پیچھے انہوں نے ہیں بلکہ کا سامنا اس حملے بلکہ اس کے ساتھ اور اس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم