کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل واپس نہ لیا گیا تو سڑکوں پر آئیں گے، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کم عمری پر پابندی سے متعلق بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے واپس نہ لینے پر سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ وقت ملی یکجہتی اور اتحاد قائم کرنے کا ہے اور ایسے میں حکومت متنازع بل منظور کروا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم بچوں کی شادی کے ممانعت کا بل لایا گیا، کیا اس بل کو لانے کا یہ موقع تھا۔ اب میں اس بل کی مخالفت کروں گا تو کہیں گے مولانا صاحب کیا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی حرکتیں نہ کی جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر سے بل کے خلاف رولنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے بل منظور کر کے سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ یہ قانون سازی روکیں اور اسلامی نظریاتی کونسل بھیجیں اگر انہیں اعتراض نہ ہوا تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پورا ملک اور پارلیمان متفق ہے کہ ہندوستان نے جارحیت کی ہے، پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بلا تحقیق پاکستان پر الزام دھر دیا اور اپنی سیکیورٹی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سولین اور مذہبی مراکز پر میزائل گرائے گئے، مساجد اور نزدیک کی فیملیز کو نشانہ بنا کر دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مراکز پر حملہ کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور فوج اعتراف کر رہی ہے کہ قوم پشت پر نہیں ہے تو جنگ نہیں لڑ سکتی، بھارت نے الزام لگایا اور حملے میں بھی پہل کی جبکہ افواج پاکستان نے جس طرح دفاع کیا اور جواب دیا تاریخ یاد رکھے گی۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنگ بندی ہوئی لیکن صورتحال برقرار ہے ، ضرورت ہے کہ قومی یکجہتی کو برقرار رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں اراکین حکومت کا مذاق اڑا رہے ہیں، مودی تنہا ہے کوئی عوامی سپورٹ نہیں مل رہا، مودی اپنی فیس سیونگ کیلئے اس قسم کی حرکت دوبارہ کرسکتا ہے، چائنہ کی اقتصادی دوستی اب دفاعی میدان میں داخل ہوچکی ہے اور ہمیں اپنے دوست چائنہ پر اعتماد کرنا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یورپ اور اسرائیلی ٹیکنالوجی مات کھا گئی، چین اور ایشیا کی ٹیکنالوجی کامیاب ہوگئی، دنیا نے دیکھا کہ ہمارے ہوا بازوں نے کیسے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ افغانستان کے سرحد کو پُرامن رکھیں، آج ایوان میں وزیرستان کے ڈرون حملے پر بات ہوئی، ہم نے پشاور اور کوئٹہ میں ملین مارچ کی۔ ہم قومی یکجہتی اور خوف کو توڑنے کیلئے جلسے کیے اور دنیا کو بتایا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لوگ زندہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔