بھارتی مکر وفریب عالمی سطح پر بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بھارت بیک وقت کئی محاذوں پر شکست سے دوچار ہے۔ عسکری محاذ پر پاک افواج نے مودی سرکار کے سور مائوں کو جس طرح دھول چٹائی وہ اب تاریخ میں رقم ہو چکا ہے۔ جن رافیل طیاروں پر تکیہ تھا وہ میدان جنگ میں پتوں کی طرح ہوا دینے لگے۔ جس روسی میزائل ڈیفنس سسٹم پر بھارت ناز کر رہا تھا وہ پہلے ہی ہلے میں ڈھیر ہو گیا ۔ رہی بات اسرائیلی ڈرون کی تو انہیں پاکستان میں فوج اور عوام نے کھلونوں کی طرح برتتے ہوئے کسی پریشانی کے بغیر مار گرایا۔ بھارتی حزب اختلاف اب بی جے پی سرکار اور پردھان منتری نریندر مودی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔ کئی چبھتے ہوئے سوال بلا بن کر بی جے پی کے نیتائوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی جگ ہنسائی دنیا بھر میں ہو چکی ۔سرکاری جھوٹ کو ہیجان کا تڑکا لگا کر بھارتی میڈیا نے جو مصالحے دار چاٹ تیار کی تھی وہ اب ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ خبروں کے نام پر ایک سرکس ٹی وی اسکرینوں پر چلتا رہا ۔میڈیائی نوسر بازوں نے کراچی بندرگاہ تباہ کروا دی۔ لاہور کو کھنڈر بنا دیا۔ دارالحکومت میں بھارتی سینا کا قبضہ کروا دیا اور بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کروا دیا۔ رات کی تاریکی میں جنگی جنون میں مبتلا بی جے پی کے حامی میڈیا کی جعلی رپورٹنگ پر فتح کا جشن مناتے رہے۔ صبح کا سورج طلوع ہوا تو مودی سرکار کی جگ ہنسائی اور بھارت کی شرمناک شکست کا نیا باب رقم ہوا ۔پاکستان پوری قوت اور استقامت سے میدان جنگ میں موجود تھا۔ قوم متحد اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھی۔ پاکستان کا جوابی حملہ نہایت موثر، برق رفتار اور حیران کن تھا۔ فضائوں میں پاکستانی شاہینوں کا راج تھا اور سرحد پر بھارتی ایئر بیسس پاکستانی میزائلوں کی بوچھاڑ سے مفلوج ہو گئیں۔ پاک بحریہ کی مستعدی کی بدولت بھارتی بحریہ کو آگے بڑھنے کی جرات ہی نہ ہو سکی۔ بی جے پی سمیت مسلم دشمن بھارتی طبقات میں صف ماتم بچھی ہے۔ عسکری محاذ کی شکست کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی مکمل ناکامی نے مودی سرکار کے حواس معطل کر دیئے ہیں۔ گودی میڈیا کی جعلسازی نے بطور ریاست بھارت کی رہی سہی ساکھ ملیا میٹ کر دی ہے۔
عالمی میڈیا پر بھارت کی فیک نیوز فیکٹریوں کا چرچہ ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا عنوان ہی بھارتی جال سازی کا بھانڈا پھوڑنے کے لیے کافی ہے” How the Indian media amplified falsehood in the drumbeat of war” یعنی جنگ کے ہنگامے میں کس طرح بھارتی میڈیا نے جھوٹ کا پرچار کیا۔ بھارت کی بزدل اور پیشہ وارانہ مہارت سے عاری فوج کی فتح کی جھوٹی داستانیں گھڑی گئیں۔ سندھ کے صوبائی دارالحکومت میں بندرگاہ کی تباہی سے لے کر پاکستان کے دو لڑاکا طیارے مار گرانے کی جھوٹی خبروں سے بھارتی عوام اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکی ۔سوشل میڈیا پر تو جعلسازی کی انتہا کر دی گئی۔ ویڈیوز، میمز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے ذریعے اپنی شکست کو فتح بنا کر پیش کیا۔ حد تو یہ تھی کہ معروف میڈیا ہاس انڈیا ٹوڈے نے بھی پاکستانی طیاروں کے مار گرائے جانے کی جھوٹی خبر نشر کر دی۔ عالمی میڈیا پر تنقید اور جگ ہنسائی کے بعد سینئر صحافی راجدیپ دیسائی کو معذرت کرنی پڑی۔ صحافتی اصولوں کے مطابق حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کو جھوٹی خبریں بے نقاب کرنے کی پاداش میں مقدمات درج کر کے ہراساں کیا گیا۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 11 برس کے دور اقتدار میں مودی سرکار نے بھارت میں آزادی اظہار رائے کا بھی گلا گھونٹا اور صحافتی اقدار کو بھی پامال کیا ہے۔ بھارت کی مشکوک حرکات کا ایک اور ثبوت دہشت گرد احسان اللہ احسان کی صورت بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستانی اداروں کی حراست سے فرار ہونے والا خارجی احسان بدنام دہشت گرد گروہ کا ترجمان رہا ہے ۔گزشتہ کئی برسوں سے اس دہشت گرد کی تحریریں سنڈے گارڈین نامی شمارے میں شائع ہو رہی ہیں۔ کیا یہ سب بھارتی ایجنسیوں کی مرضی کے بغیر ممکن ہے؟ اس دہشت گرد کی حالیہ تحریر میں پاکستان پر دو مزید فالس فلیگ آپریشنز اور بھارت پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ تحریر بھارتی ریاستی اداروں کی ایما پر لکھی گئی ہے۔ لگتا ہے کہ مودی سرکار اندرونی اور بیرونی محاذ پر ذلت کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے پاکستان کے لیے نئے جال بن رہا ہے۔ جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کے ہتھیار سے لیس بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردوں کو بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مودی سرکار بھارت کی بی جے پی رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔