Express News:
2026-06-03@02:38:41 GMT

کیا سیاسی جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

پاک بھارت سیز فائرکے بعد قومی سیاست میں جاری سیاسی کشمکش اور ٹکراؤ پر مبنی سیاست کا جو کھیل ہے، کیا اس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ سیاسی اختلافات کے مقابلے میں سیاسی دشمنی یا ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرنے کی روش نے پہلے سے موجود جمہوری، سیاسی،آئینی اور قانونی نظام کو اور زیادہ کمزور کردیا ہے۔

اگرچہ پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کے مضمرات ہم نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران نہیں دیکھے اور سب فریقین نے اپنے تمام تراختلافات کو پس پشت ڈال کر ریاستی اور حکومتی نظام کے ساتھ جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ واقعی قابل دید ہے۔لیکن اس سے یہ خوش فہمی کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم اب ختم ہوگئی ہے ، درست تجزیہ نہیں ہوگا۔

اس وقت پاکستان کے داخلی مسائل جن میں سیاسی عدم استحکام،معیشت سے جڑے مسائل، سیکیورٹی اور دہشت گردی کا چیلنج شامل ہیں۔دو برسوں سے حکومت کا پی ٹی آئی سے ٹکراؤ ہے یا پھر یہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔

اس کو محض سیاسی بحران تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مجموعی طور پر یہ ایک بڑا ریاستی سطح کا بحران ہے جہاں تمام اداروں کے درمیان بداعتمادی یا ٹکراؤ کا ماحول غالب ہے۔اس لیے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ایک ایسا مستقل علاج تلاش کرنا ہوگا جو ریاستی اور ادارہ جاتی نظام اور جمہوری نظام کو مضبوط کرے۔ایک ایسا نظام جو جمہوری بھی ہو اور جہاں آئین و قانون کی حکمرانی بھی ہو۔

 جو علاقائی یا عالمی صف بندی کی نئی شکلیں سامنے آرہی ہیں یا جو بھارت کے پاکستان کے خلاف نئے جنگی عزائم ہیں ان میں ہمیں بطور پاکستان زیادہ ذمے داری اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان مسائل کا علاج جذباتیت سے ممکن نہیں بلکہ زیادہ ہوش مندی کے ساتھ اپنی حکمت عملیوں کو ترتیب دینے سے جڑا ہوا ہے۔ پہلی بنیادی شرط ملک کا داخلی استحکام ہے اور اس پر کسی بھی سطح پرسمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

سیاسی اختلافات کی جمہوری نظام میں اہمیت ہوتی ہے لیکن یہ عمل سیاسی اختلافات تک ہی محدود رہنا چاہیے نہ کہ اس کی شکل سیاسی دشمنی یا ایک دوسرے کے سیاسی وجود سے انکاری سے جوڑی جائے۔ پچھلے دو برسوں میں اس ملک میں جو کچھ سیاست اور جمہوریت کے نام پر ہوا ہے اس سے ہماری جمہوریت سمیت ریاستی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حالانکہ آج کی دنیا میں ہمارا ریاستی تصورجمہوری خطوط پرسمجھا جانا چاہیے۔لیکن ہمارے جمہوری نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے داخلی سیاسی مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر تلاش کریں۔طاقت کے استعمال کی حکمت عملی نے پورے ریاستی نظام میں انتشار کی سیاست پیدا کی یا سب کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔یہ تاثر عام نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست کا نظام کسی ایک جماعت کا حامی اور کسی دوسری کا مخالف ہے۔

اس پالیسی سے گریز خود ریاست کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان تحفظات کو بات چیت کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ اگر سیاسی ڈیڈ لاک کو برقرار رکھ کر آگے بڑھنا ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان بھی جمہوری قوتوںکوہوگا۔ جمہوریت کی کامیابی کی بڑی کنجی ہی ڈائیلاگ اور مفاہمت کی سیاست ہے اور یہ ہی ہماری ترجیح بھی ہونی چاہیے۔

سیاسی مفاہمت مشکل عمل نہیںہوتا۔اہم شرط ایک دوسرے کی قبولیت اور لچک پیداکرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ہم مفاہمت کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہیں تو پھر مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا آسان ہوجاتا ہے۔مفاہمت کی سیاست میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہی سیاسی حکمت عملی کاحصہ ہوتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک دوسرے کے وجود کو ختم کرنا ہی ہماری ترجیحات کا اہم حصہ بن جاتا ہے جو مزید سیاسی رکاوٹوں کو پیدا کرتا ہے۔

اس کھیل میں ہم سیاسی انتقام کو بطور سیاسی کارڈ کے استعمال کرتے ہیں جس سے سیاسی حالات میں کشیدگی یا دشمنی کا پیدا ہونا یقینی ہوجاتا ہے۔ہم سیاسی مخالفین کے خلاف اس حد تک نیچے چلے جاتے ہیں جو مکمل طور پر جمہوریت اور قانونی اصول کے برعکس ہوتا ہے ۔

اس وقت ایک اچھا موقع ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد سیاسی ماحول میں تناؤ اور ٹکراؤ کم ہوا ہے ۔اس موقع سے حکومت کو فائدہ اٹھانا چاہیے کہ ملک میں سیاسی تلخی کا ماحول کم ہو اور معاملات سیاسی افہام وتفہیم سے آگے بڑھیں۔ خود پی ٹی آئی کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس عمل میں زیادہ سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرے اورخود کو ایک بڑی مفاہمت کی سیاست کے طور پر پیش کرے۔اس وقت سیاسی تلخیوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنی توجہ حساسیت پر مبنی قومی معاملات پر ہونی چاہیے۔

ایک بڑے فریم ورک میں قومی مسائل اور ان کے حل کا احاطہ کرنا چاہیے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم جوش یا جذباتیت کا شکار ہوتے ہیں تو ہم دوراندیشی کے پہلوؤں پر کم توجہ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ ہی وقت ہوتا ہے جب فیصلے کی طاقت رکھنے والوں کو زیادہ بردباری کے ساتھ معالات سے نمٹنا چاہیے اور خاص طور پر ریاست اور حکومت کے اداروں کی یہ ذمے داری زیادہ بنتی ہے اور ان ہی کو گنجائش پیدا کرنا ہوتی ہے تاکہ معاملات بہتر طور پر آگے بڑھ سکیں۔

پی ٹی آئی کے پاس بھی یہ اچھا موقع ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے سیاسی کارڈ کھیلے اور ایسا راستے کو تلاش کرنے کی کوشش کرے جو اس کے لیے دوبارہ قومی سیاست میں واپسی کا بند دروازہ کھول سکے۔یہ فتح اور شکست کا محاذ نہیں بلکہ حالات کے مطابق اپنے کارڈ درست طور پر کھیلنے سے جڑا عمل ہے۔لیکن اگر اس کے برعکس ہم نے ایک دوسرے کے لیے دروازے بند رکھے تو اس کا نقصان جہاں ریاست کے مفادات کو پہنچے گا وہیں ہمارا دشمن بھی اس بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔اس لیے ہماری اپنی قیادت کا امتحان ختم نہیں ہوا ہے بلکہ امتحان اب شروع ہوا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس موجودہ امتحان میں کس طرح سے خود کو سرخرو کرتے ہیں ۔

اس طرز کے موقع بار بار نہیں ملتے اور نہ ہی ایسے بڑے امکانات بار بار پیدا ہوتے ہیں۔بحرانوں میں ہمیشہ جہاں مسائل کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے وہیں نئے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اصل بات ان نئے امکانات سے فائدہ اٹھانے سے جڑا ہوتا ہے اور ہم سب کو اس نئے امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔کیونکہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی ،ادارہ جاتی اور سیکیورٹی کے استحکام کی طرف بڑھنا ہے تو اس کو پرانی سیاسی حکمت عملیوں سے باہر نکل کر ایک بڑی قومی مفاہمت کی سیاست کی طرف پیش قدمی کرنا ہوگی۔لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم خود کو پرانے خیالات سے باہر نکالیںاور ایک دوسرے کی حقیقت کو تسلیم کرکے اپنی اپنی حکمت عملیوں کو وضع کریں۔

ہمارے سامنے ایک دوسرے کے ذاتی یا جماعتی مفادات کے مقابلے میں ریاست اور شہریوں کے مفادات اہم ہونے چاہیے۔اس وقت کا بڑا تقاضہ قومی سیاست میں محاذآرائی اور ٹکراؤ کی سیاست کا خاتمہ اور قومی ترجیحات کے درست تعین کا ہے ۔درست ترجیحات اور تعین ہی ہمیں مسائل کی درست نشاندہی اور عملدرآمد کی طرف لے جانے میں مدد دے گا،لیکن پہلے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی سیز فائر کو ختم کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مفاہمت کی سیاست ایک دوسرے کے حکمت عملی میں سیاسی سیاست میں پی ٹی آئی ہوتا ہے ہے لیکن ہوا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری