ڈائریکٹر مہرین جبار نے شوبز انڈسٹری میں ادائیگیوں کے مسائل پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
معروف پاکستانی ڈرامہ اور فلم ڈائریکٹر مہرین جبار نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ادائیگیوں کے مسائل کا انکشاف کردیا۔
مہرین جبار نے حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈرامہ انڈسٹری میں پیش آنے والے ادائیگیوں کے مسائل پر روشنی ڈالی۔
مہرین جبار جنہوں نے دام، ایک جھوٹی لو اسٹوری، جیکسن ہائٹس اور دوراہا جیسے کامیاب ڈرامے ڈائریکٹ کیے ہیں، ان دنوں ایک نئے ڈرامے پر کام کر رہی ہیں جس میں عدیل حسین، شجاع اسد اور حاجرا یامین شامل ہیں۔
انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے کافی ترقی کی ہے، تاہم پیشہ ورانہ رویوں کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ادائیگیوں کے معاملے میں جو کہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں بیشتر پروڈکشن ہاؤسز وقت پر ادائیگیاں نہیں کرتے، اور فنکاروں، ہدایتکاروں حتیٰ کہ اسپاٹ بوائز کو بھی بار بار اپنی تنخواہ کا تقاضا کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ وہ کسی سے خیرات مانگ رہے ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تکنیکی عملے کی تنخواہیں نہایت کم ہیں اور پروڈکشنز اخراجات کم رکھنے کے لیے اسی حکمتِ عملی پر چلتی ہیں۔ مہرین جبار نے کہا کہ یہ صورتحال بہت پریشان کن ہے اور اسے بدلنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اب مہنگائی کا دور ہے جس میں ہر شخص کیلئے اخراجات پورے کرنا مشکل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ادائیگیوں کے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔