لیاری میں مخدوش عمارتیں گرانے کا آغاز، خواب ملبے تلے دفن، نم آنکھوں سے رہائشیوں کا الوداع
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)شہرِ قائد میں بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوگیا۔ انتظامیہ بالآخر متحرک ہوئی اور لیاری کے علاقے بغدادی میں حال ہی میں منہدم ہونے والی عمارت سے ملحقہ خطرناک عمارت کو گرانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
متاثرہ عمارت کے مکینوں کو سامان نکالنے کی اجازت دی گئی، مگر ان آنکھوں میں آنسو اور چہروں پر دکھ کے سائے نمایاں تھے۔ برسوں سے آباد گھروں کو لمحوں میں خالی کرنا پڑا، لیکن تحفظِ جان کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑا۔ مکینوں نے شکایت کی کہ متبادل رہائش کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
وہ لوگ چالیس سال سے ان دیواروں کے سائے میں جی رہے تھے۔ اب وہ چھت نہیں رہی، وہ دیواریں نہیں رہیں، اور وہ محفوظ احساس بھی رخصت ہوگیا۔
حکام کے مطابق کراچی میں اس وقت 586 عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں جن میں زندگی خطرے سے خالی نہیں۔ پہلے مرحلے میں 51 عمارتوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لیاری کی عمارت جو 4 جولائی کو سیل کی گئی تھی، اسے سب سے پہلے گرایا جا رہا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق اس عمارت کو مکمل طور پر مسمار کرنے میں پندرہ دن لگیں گے، اور اطراف کی دیگر خطرناک عمارتوں کو بھی ایک ایک کرکے گرایا جائے گا۔
عمارتوں پر سرخ نشان لگ چکے ہیں۔ یہ نشان محض دیواروں پر نہیں، بلکہ ان خوابوں پر ہیں جو ان گھروں کے ساتھ دفن ہو رہے ہیں۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ناگزیر ہے اور جان بچانا اولین ترجیح ہے۔
بوسیدہ عمارتوں کا خاتمہ ایک تلخ لیکن ضروری قدم ہے۔ یہ شہر کی سلامتی، شہریوں کی جان کے تحفظ اور مستقبل کی بقاء کا معاملہ ہے۔ جن عمارتوں میں آج لوگ بستے ہیں، اگر انہیں خالی نہ کرایا جائے تو کل وہ ملبے تلے آسکتے ہیں۔
یہ آپریشن صرف اینٹوں اور سیمنٹ کو گرانے کا عمل نہیں یہ ان خطرات کو روکنے کی کوشش ہے جو ہر بارش، ہر زلزلے، اور ہر جھٹکے کے ساتھ مزید قریب آتے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ متحرک، آپریشن کا آغاز
سانحے کے بعد سندھ حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی اسحاق کھوڑو کو معطل کر دیا، ان کی جگہ شاہ میر خان بھٹو کو ادارے کا نیا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عمارت گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار اور وزیر بلدیات سعید غنی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی کہ کوتاہی برتنے والوں کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ لواحقین کو فی کس دس لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔
وزرا نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، اور فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر شہر میں بوسیدہ عمارتوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔
رکشے بھی ملبے تلے، اب روزی کا پہیہ کیسے چلے گا؟
منہدم عمارت کے ملبے میں متعدد رکشے بھی دب گئے۔ یہ وہ رکشے تھے جو ان کے مالکان کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ تھے۔ رکشہ ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملبے سے ان کے رکشے نکالنے کی اجازت دی جائے۔ ”چھت تو گئی، اب روزی بھی گئی… چولہا کیسے جلے گا؟“ کچھ رکشے تاحال صحیح حالت میں ہیں، مگر انتظامیہ کی عدم توجہی نے ان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
یہ صرف عمارتیں نہیں، خوابوں کے ملبے ہیں
عمارتیں گرانا شاید آسان ہو، مگر ان چھتوں کے نیچے بسنے والے خواب، یادیں، اور زندگیاں بھی مسمار ہو جاتی ہیں۔ آج لیاری کی گلیوں میں صرف ملبہ نہیں، بلکہ چیخیں، آہیں اور سوالات بکھرے ہوئے ہیں۔
کراچی کا ضمیر اب جاگ چکا ہے، لیکن قیمت بہت بھاری ہے۔
لیاری بغدادی میں زمین بوس ہونے والی پانچ منزلہ عمارت نے کئی زندگیاں نگل لیں۔ انہی میں سے ایک، جمہ دیو جی ہیں، جن کے دو بیٹے، دو بہوئیں، ایک پوتا اور اہلیہ حادثے میں جان سے گئے۔
جمہ دیو جی اب چھت سے محروم اور کسمپرسی کی حالت میں حکومت کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔
”بوڑھا اور ناتواں کاندھا، چھ لاشیں — جمہ دیو جی کی آنکھیں اب صرف سوال کرتی ہیں: کہاں جاؤں؟“
ان کا کہنا ہے کہ زندگی اجڑ گئی، میں کہاں جاؤں، کس سے التجا کروں؟ صرف اتنی خواہش ہے کہ باقی عمر کسی چھت کے نیچے گزار لوں۔ جمہ دیو جی کے رشتے داروں نے بتایا کہ وہ کچھ دن ان کے پاس رہیں گے، لیکن اس کے بعد ان کے لیے کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
ہندو کمیونٹی کی مہیشواری جماعت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعائیہ تقریب منعقد کی، جبکہ مہشواری جماعت خانے کے صدر لکشمن مہیشواری نے شکایت کی کہ حکومت نے تاحال متاثرین کو کوئی متبادل جگہ یا امداد فراہم نہیں کی۔
سانحے کے بعد جہاں ایک طرف متاثرین اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کر رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف چھت کی تلاش، انصاف کی امید اور زندگی کی جدوجہد ان کا نیا امتحان بن چکی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جمہ دیو جی ان کے لیے کے خلاف رہے ہیں
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔