کوئٹہ میں علم کی نئی شمعیں روشن، خواتین کے لیے پہلی ڈیجیٹل لائبریری کا قیام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کوئٹہ میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل لائبریری قائم کردی گئی ہے، ڈاکٹر لال محمد کاکڑ نے سانحہ سول اسپتال کے شہدا کے نام سے منسوب ایک لائبریری قائم کی ہے، خواتین کی اس واحد مخصوص لائبریری میں نفرت کا جواب علم، شعور اور قلم کی روشنی سے دیا جائے گا۔
8 اگست 2016، سانحہ سول اسپتال، وہ سیاہ دن جس نے بلوچستان کے دل کو زخمی کردیا، سانحہ میں شہید ہونے والے 72 افراد میں باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ بھی شامل تھے
ان کے بھائی ڈاکٹر لال محمد کاکڑ نے شہدا کی یاد میں اور دہشتگردوں کے بارود کا مقابلہ علم کی روشنی سے کرنے کا عزم رکھتے ہوئے شہدائے 8 اگست کے نام سے لائبریری قائم کی۔
علم دوستی کا سفر صرف ایک لائبریری تک محدود نہ رہی، ڈاکٹر لال محمد کاکڑ نے کوئٹہ میں پہلی بار خواتین کے لیے مخصوص لائبریری قائم کردی، جہاں طالبات ایک محفوظ ماحول میں علم سے منور ہورہی ہیں۔
سری گل کاکڑ کے مطابق شہید باز محمد کاکڑ کی بہن کہتی ہیں کہ لائبریریوں کا قیام نوجوانوں کو اغیار کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکنے کی جانب ایک قدم ہے۔
شہدائے 8 اگست لائبریریوں میں 5 ہزار سے زائد طلبا و طالبات رجسٹرڈ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بلوچستان خواتین کوئٹہ لائبریری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان خواتین کوئٹہ لائبریری لائبریری قائم محمد کاکڑ کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔